Featured Image

Under which law decree of Return of Dowry Articles has been granted from Court

 جہیز کی واپسی کس طرح اور کس ضابطہ میں ہوتی ہے ؟

جہیز سے مراد شادی کے موقع پر دلہن کے گھر والوں کا دیا گیا مال و اسباب  ہے  جو کہ دلہن شادی کے مواقع پر اپنے گھر والوں کی طرف سے تحائف کی صورت میں لاتی ہے ۔ دلہن شادی کے  بعد   چونکہ دولہا کی ذمہ داری بن جاتی ہے اور وہ ساری زندگی اس ذمہ داری کو اٹھا تا ہے اس لئے دلہن کے گھر والے شادی کے موقع پر اس ذمہ داری کا کچھ حصہ اٹھا تے ہیں اور جہیز میں مستقبل کے لئے ضروریات زندگی کا سامان دیتے ہیں ۔بادی النظر میں جہیز دلہن کی ملکیتی سامان کو کہتے ہیں ۔

جہیز یعنی دلہن کو شادی کے موقع پر دیےگئے تحائف یعنی ہبہ چونکہ دلہن کی ملکیت بن جاتے ہیں ۔ اگر شادی ناکام ہو جائے تو دلہن  ان تحائف کو بھی اپنے ساتھ واپس لاسکتی ہے ۔ جس طرح دلہن مہر کی ادائیگی کا مطالبہ ( زیر دفعہ 10مسلم فیملی آرڈنینس 1961کے تحت )کر سکتی ہے اور نان و نفقہ  (زیر دفعہ 9  مسلم آرڈنینس 1961 ) طلب کرسکتی ہے ۔ بالکل اسی طرح وہ جہیز کی واپسی بذریعہ فیملی کورٹ ایکٹ1964  زیر دفعہ 5  اور 17 طلب کرسکتی ہے ۔ فیملی کورٹ ایکٹ 1964 کی دفعات 5 اور 17 فیملی عدالت کے اختیار سماعت کو واضح کر تی ہیں اور قرار دیتی ہیں کہ دیوانی قانون یا قانون شہادت کے قواعد و ضوابط کا اطلاق فیملی  مقدمات پر نہیں ہوگا۔دفعہ 5 کے تحت فیملی کورٹ درج ذیل معاملات  کی سماعت کرسکتی ہے ۔

شادی کا خاتمہ ( بشمول خلع ) ، مہر ، نان ونفقہ ، حقوق زوجیت کا دعوی ، بچوں کی حضانت (بشمول والدین سے ملاقات  کا حق ) ، سرپرستی اور جہیزوغیرہ Guardianship،

تبصرہ:

درج بالا جائزہ سے ایک بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ دلہن کو دیئے گئے تحائف یعنی جہیز کی واپسی فیملی کورٹ کا اختیار سماعت ہے ۔ دلہن فیملی عدالت میں دعوی دائر کرکے جہیز واپس لے سکتی ہے ۔ شادی کے موقع پر دیئے گے تحائف دلہن کی ملکیت ہوتے ہیں ۔ وہ ان کو استعمال کرتی ہے ۔ اگر کسی وجہ سے ناچاقی ہوجائے تو دلہن کو اختیار ہے کہ وہ جہیز کی واپسی کا مطالبہ کرے۔ عدالت عظمی نے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ  دیوانی قانون اور قانون شہادت ایکٹ 1984  کا اطلاق فیملی کورٹ اور اس کی کارروائی پر نہیں ہوگا۔ جہیز میں دیئے گئے سامان کی واپسی فیملی عدالت کے اختیار سماعت میں آئی گی مزید یہ کہ ایک  گواہ بھی مقدمہ کے لئے کافی ہوگا۔                       

 (NLR 2004 SD 576) ،،،(SCMR 2017 393. SC). 

ایسی طرح اگر شوہر یعنی مدعاعلیہ نے سامان  جہیز کو بے دردی سے استعمال کر لیا ہو تو عدالت کے مطابق وہ اس سامان کی قیمت ادا کرے گا۔

(NLR 2004 SD 1051).

یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ دلہن تو اپنے تحائف یا جہیز کو فیملی عدالت میں دعوی دائر کر کے واپس لے سکتی ہے مگر دولہا کو یہ اختیار نہیں ہے یعنی وہ اپنی بری ( شادی کے موقع پر دولہا کی طرف سے دئیے گے تحائف یا  مہر   ) کو بذریعہ فیملی عدالت کے واپس مانگ سکے ۔ دولہا کو اپنی بری واپس لینے کے لئے دیوانی مقدمہ دائر کرنا پڑتا ہے ۔ جو کہ انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے ۔اکثر مقدمات میں دلہن تو جہیز واپس لے کر  گھر چلی جاتی ہے مگر دولہا کو اپنے تحائف کی واپسی کے لئے عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں ۔ حالانکہ دونوں فریقین کا تعلق فیملی معاملات سے ہے ان کو فیملی عدالت میں حل ہونا چاہیے اور تحائف جن میں مال و اسباب کے ساتھ ساتھ زمین و جائیدایں بھی ہوسکتی ہیں ۔ ان کی واپسی کے لئے دیوانی مقدمہ کی شرط نہیں ہونی چاہیے ۔ چاہے یہ زمینیں جائیدایں رجسٹر ہو کر ملکیت ہی کیوںنہ شمار ہوں ۔ ان کے لئے دیوانی کے بجائے فیملی مقدمہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ تحائف یا مال و اسباب شادی سے متعلق ہوتا ہے ۔

از

راحیلہ خان ایڈووکیٹ

ریسرچ لائر وِل فورم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Updates

Post Image
National Assembly passes Anti Rape Ordinances.

فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس2020 (زنا ء بالجبر) اورانسدادِ زنا ء بالجبر  (تحقیقات و سماعت) آرڈیننس2020   کو اب باقاعدہ قومی اسمبلی سے پاس کر دیا ..Read More

Post Image
WIL Forum held annual workshop

WIL Forum’s annual workshop for the staff and members was a great success!There were segments held by Chairperson Adv. Talat Yasmeen, General Secretary Adv. Rubina ..Read More