Pakistan First step Toward Intrest free Islamic Banking
Published on September 20, 2025





روداد۔
اسلامی بینکاری: سود سے پاک معیشت کی طرف پاکستان کا قدم*
تحریر: حافظہ طوبیٰ ثانی
ریسرچ ممبر وومن اسلامک لایئر فورم
ویمن اسلامک لائرز فورم نے 5 اگست 2025 جناح اڈیٹوریم سٹی کورٹ میں حبیب میٹرو بینک اسلامی بینکنگ صراط کے تعاون سے اسلامک بینکنگ پر معزز وکلاء کے لئے ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا۔ جس میں بینک کے ہیڈ آف شریعہ کمپلائنس جناب احمد شاہ خٹک صاحب نے بینک کا تعارف پیش کیا اسکے بعد ریذیڈنٹ شریعہ بورڈ ممبرجناب خواجہ نور الحسن صاحب نے اسلامک بینکنگ کا طریقہ کار اور ضرورت اور اہمیت تفصیل کے ساتھ شرکاء کے سامنے بیان کیں ۔ ول فورم نے مہمان اسکینرز کا شکریہ ادا کیا اور انہیں ول فورم کی شیلڈ پیش کی گئی بینک کی ٹیم نے ول فورم کے آفس کا دورہِ بھی کیا۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں معیشت اور بینکاری کے نظام میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، لیکن آج بھی اسلامی بینکاری ایک مؤثر، شفاف اور عدل پر مبنی متبادل کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہی ہے۔ پاکستان میں حالیہ 26ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سودی نظام کے خاتمے کا فیصلہ ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس تناظر میں اسلامی بینکاری نہ صرف دینی فریضہ ہے بلکہ معاشی ترقی اور عالمی سطح پر تجارتی وسعت کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اسلامی بینکاری کا تصور محض حالیہ چند دہائیوں کا نتیجہ نہیں، بلکہ اس کے آثار ابتدائی اسلامی ریاست سے ملتے ہیں۔ تاہم، جدید بینکاری نظام میں اس کا باقاعدہ آغاز 1963ء میں مصر میں “نظام اسلامی بینک” کے قیام سے ہوا۔ اس سے قبل حیدرآباد دکن اور پاکستان میں 1950ء کی دہائی میں محدود پیمانے پر سود سے پاک مالیاتی تجربات کیے جا چکے تھے، جن میں شیخ احمد رشاد کا کردار قابلِ ذکر ہے۔
پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کو جنرل ضیاء الحق کے دور میں شریعت پر مبنی مالیاتی نظام تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 1990ء کے آخر میں غیر سودی اکاؤنٹس (PLS) کے ذریعے اس سفر کو آگے بڑھایا، لیکن مکمل تبدیلی کے لیے سیاسی اور معاشی پختگی کی ضرورت تھی، جو اب رفتہ رفتہ سامنے آ رہی ہے۔
26ویں آئینی ترمیم: روشن مستقبل کی نوید
حالیہ 26ویں آئینی ترمیم اور وفاقی شریعت کورٹ کے تحت پاکستان نے سودی نظام کے خاتمے کا فیصلہ کیا، جو نہ صرف آئین کی اسلامی روح کے مطابق ہے بلکہ یہ معیشت کو پائیدار، خودمختار اور انصاف پر مبنی بنانے کی طرف ایک عملی قدم ہے۔ اس فیصلے کے بعد ضرورت اس امر کی ہے کہ مکمل بینکاری نظام کو شریعت پر مبنی بنیادوں پر منتقل کیا جائے۔
روایتی سودی بینکاری کا بنیادی اصول “قرض دو، سود لو” ہے، جہاں نفع کا ضامن محض سرمایہ دار ہوتا ہے اور کاروباری نقصان کی صورت میں قرض لینے والے پر دباؤ آتا ہے۔ اس کے برعکس، اسلامی بینکاری “منافع و نقصان میں شراکت” کے اصول پر مبنی ہے، جہاں بینک اور صارف دونوں کاروبار میں شریک ہوتے ہیں۔
اسلامی بینکاری درج ذیل اصولوں پر مبنی ہے:
سود کی مکمل ممانعت (ربا)
غیر یقینی (Gharar) اور جوا (Maisir) سے اجتناب
حلال اور جائز اشیاء میں سرمایہ کاری
حقیقی معیشت میں شرکت
شفاف اور منصفانہ معاہدات
اسلامی بینکاری کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ “فائنانس فار ریئل اکنامی” یعنی حقیقی معیشت کو فروغ دیتی ہے۔ سرمایہ صرف پیسے کے اندر نہیں گھومتا بلکہ حقیقی کاروبار، تجارت، صنعت، زراعت اور خدمات میں استعمال ہوتا ہے۔ اس سے روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں، معاشرتی انصاف قائم ہوتا ہے، اور سرمائے کی تقسیم منصفانہ طریقے سے ہوتی ہے۔
عالمی مثال: ملائیشیا کی کامیابی
اگر کسی ملک نے اسلامی بینکاری کو مکمل طور پر قومی معیشت کا حصہ بنا کر ترقی کی منزلیں طے کی ہیں تو وہ ملائیشیا ہے۔ ملائیشیا نے 1983ء میں اسلامی بینکاری کا آغاز کیا اور آج اس کا بینکاری نظام “ڈوئل سسٹم” (Dual Banking System) پر کام کر رہا ہے جہاں اسلامی اور روایتی بینکنگ ساتھ ساتھ موجود ہیں، لیکن حکومت نے اسلامی بینکاری کو واضح ترجیح دی۔
ملائیشیا کی اسلامی بینکاری کا حجم آج GDP کے بڑے حصے کو سہارا دیتا ہے۔ وہاں “سکوق” (اسلامی بانڈز)، “اجارہ”، “مشارکہ” اور “مرابحہ” جیسے ماڈلز کے ذریعے حکومت نے ملکی ترقیاتی منصوبوں کو سود سے پاک طریقے سے فنانس کیا۔ آج دنیا بھر میں اسلامی مالیاتی تعلیم اور تربیت کے لیے ملائیشیا ایک ماڈل ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
پاکستان اگر اسلامی بینکاری کے ماڈلز کو بنیاد بنا کر دوسرے ممالک سے تجارت کرے تو نہ صرف شریعت کے مطابق کاروبار ممکن ہوگا بلکہ بین الاقوامی سودی قرضوں سے بھی نجات ملے گی۔ مثال کے طور پر، اگر پاکستان کسی مسلم یا غیر مسلم ملک سے تجارت کرنا چاہے تو “مرابحہ” یا “اجارہ” ماڈل استعمال کر کے سود سے پاک درآمدات و برآمدات ممکن بنائی جا سکتی ہیں۔
اسی طرح، اگر پاکستان کسی ترقیاتی منصوبے کے لیے قرض کی بجائے “سکوک” جاری کرے تو بین الاقوامی سرمایہ کار اس میں شریعت کے مطابق حصہ لے سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگا بلکہ پاکستان کی ساکھ (creditworthiness) بھی بہتر ہوگی۔
اسلامی بینکاری میں استعمال ہونے والے اہم ماڈلز
مرابحہ:
اشیاء کی خرید و فروخت پر مبنی ماڈل جس میں خریدار کو چیز کی اصل قیمت اور نفع واضح طور پر بتایا جاتا ہے۔
اجارہ:
کرایہ داری پر مبنی ماڈل جہاں اثاثے کو کرائے پر دے کر آمدن حاصل کی جاتی ہے، جیسے مشینری یا گاڑیاں۔
مشارکہ:
شراکت داری کا ماڈل جہاں دونوں فریق سرمایہ فراہم کرتے ہیں اور منافع نقصان میں شریک ہوتے ہیں۔
مضاربہ:
ایک فریق سرمایہ فراہم کرتا ہے اور دوسرا محنت، نفع متعین فارمولے کے تحت تقسیم ہوتا ہے۔
سکوک (Islamic Bonds):
شریعت کے مطابق بانڈز جو اثاثوں کی بنیاد پر جاری کیے جاتے ہیں، ان پر سود نہیں بلکہ حقیقی نفع دیا جاتا ہے۔
سلم اور استصناع:
ان ماڈلز کے ذریعے زراعت اور صنعت کے شعبوں کو اسلامی طریقے سے سرمایہ فراہم کیا جاتا ہے۔
اسلامی بینکاری صرف ایک نظریاتی یا مذہبی نظام نہیں بلکہ ایک پائیدار، عدل پر مبنی اور معیشت کو عوام دوست بنانے والا ماڈل ہے۔ پاکستان جیسے اسلامی نظریاتی ملک میں اس نظام کا فروغ نہ صرف دینی ضرورت ہے بلکہ معاشی استحکام کی ضمانت بھی ہے۔
اگر ہم ملائیشیا جیسے ممالک کی مثالوں سے سیکھیں، بین الاقوامی تجارت کو اسلامی اصولوں پر استوار کریں اور ملکی سطح پر شفاف اور منصفانہ اسلامی ماڈلز کو اپنائیں، تو نہ صرف ہم سودی قرضوں سے نجات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ایک مضبوط، خودمختار اور بابرکت معیشت کی بنیاد بھی رکھ سکتے ہیں۔



























