Lost dream under emberalla of green flag
Published on September 20, 2025
_
عنوان : سبز پرچم کے سائے میں کھویا ہوا خواب_
تحریر: حافظہ طوبیٰ ثانی
ریسرچ ممبر وویمن اسلامک لائیر فورم
14 اگست کا سورج ہر سال اُسی شان سے طلوع ہوتا ہے، بازار سبز جھنڈوں سے بھر جاتے ہیں، گلی کوچوں میں جھنڈیاں لہرانے لگتی ہیں، اور حب الوطنی کے شور میں سب اپنی اپنی موجودگی کا اعلان کرتے ہیں۔ مگر جب یہ سبز ہلالی پرچم آسمان پر بلند ہوتا ہے تو ایک سوال میرے ذہن پر چوٹ کرتا ہے: کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب دیکھا گیا تھا؟ یا ہم نے اس خواب کو محض ایک رنگین کپڑے کے سائے میں دفن کر دیا ہے؟
یہ ملک محض ایک زمین کا ٹکڑا نہیں تھا، یہ ایک نظریہ تھا۔ ایک ایسی ریاست کا تصور جس کی بنیاد انصاف، مساوات اور اسلامی اقدار پر ہو۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تقریروں میں بار بار یاد دلایا کہ ریاست کا کام شہریوں کو مذہبی آزادی اور انصاف فراہم کرنا ہے، اور یہ انصاف طاقتور یا کمزور کی پہچان کے بغیر سب کو ملنا چاہیے۔ لیکن آج، انصاف عدالتوں میں برسوں کے مقدمات میں دفن ہے، اور قانون اکثر طاقتور کے گھر کی باندی بن کر رہ جاتا ہے۔
قیامِ پاکستان کے لیے دی گئی قربانیاں محض تاریخ کی سطریں نہیں بلکہ ایک ایسی داستان ہیں جنہیں پڑھ کر دل دہل جاتا ہے۔ ہجرت کے قافلوں میں مائیں اپنی گودوں کے چراغ بجھا بیٹھی تھیں، بہنیں اپنی عصمتیں قربان کر رہی تھیں، اور بوڑھے اپنے جوان بیٹوں کی لاشیں اُٹھائے ہوئے تھے۔ یہ سب ایک ایسی ریاست کے لیے تھا جہاں ہر شہری خود کو محفوظ اور آزاد محسوس کرے۔ لیکن افسوس! ہم نے ان قربانیوں کا صلہ صرف نعرے لگا کر اور ایک دن کا جشن مناکر دینا سیکھا۔
آج کا منظرنامہ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے ہم نے پاکستان کو ماں ضرور کہا، مگر سلوک سوتیلی خالہ سے بھی بدتر کیا۔
قومی دولت کو امانت کے بجائے لوٹ کا مال سمجھا گیا۔
تعلیم کو کاروبار بنایا گیا، تاکہ شعور کا دروازہ بند رہے۔
قانون کو اپنی سہولت کے مطابق توڑا اور موڑا گیا۔
حب الوطنی کو صرف کرکٹ میچ اور 14 اگست تک محدود کر دیا گیا۔
دلچسپ مگر افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا نام ایک طالبعلم، چوہدری رحمت علی نے رکھا تھا، اور اس کا مطلب ایک سوچ، ایک خواب اور ایک نظریہ تھا۔ آج کے طالبعلم اس خواب سے واقف بھی نہیں۔ وہ “پا پا پاکستان” کے ری مکس پر ویڈیو بنانے کو حب الوطنی سمجھتے ہیں، جبکہ قربانی کے اصل مفہوم سے کوسوں دور ہیں۔
ہماری بدحالی کا اصل سبب یہ ہے کہ ہم نے تنقید کو دشمنی اور اصلاح کو مذاق سمجھ لیا ہے۔ قوم کا ہر فرد دوسروں سے تبدیلی کی امید رکھتا ہے مگر خود اپنی ذات میں کوئی تبدیلی لانے کو تیار نہیں۔ ہم یہ بھول گئے کہ وطن صرف حکمرانوں کا نہیں ہوتا، یہ ہم سب کا ہے۔
اگر ہم واقعی سبز پرچم کے سائے میں سوئے خواب کو جگانا چاہتے ہیں تو ہمیں:
نظریۂ پاکستان کو نصاب اور روزمرہ گفتگو کا حصہ بنانا ہوگا۔
بدعنوانی اور ناانصافی کے خلاف اجتماعی مزاحمت پیدا کرنی ہوگی۔
حب الوطنی کو نعروں اور ڈی پی چینج تک محدود کرنے کے بجائے عملی خدمت میں ڈھالنا ہوگا۔
اقبال نے برسوں پہلے ہمیں آئینہ دکھایا تھا:
وطن کی فکر کر نادان، مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسماں والوں کے پاس
یاد رکھیے، سبز پرچم کی اصل عظمت تب ہی بحال ہو گی جب اس کے سائے میں خواب محض محفوظ نہیں بلکہ زندہ اور متحرک ہوں۔ ورنہ یہ پرچم تو لہرائے گا، لیکن اس کے نیچے سویا ہوا خواب کبھی جاگ نہ سکے گا۔



























