Featured Image

Importance Of Jahez In Law

جہیز   اور اسکی قانونی حیثیت

از  راحیلہ خان ایڈووکیٹ 

ریسرچ آفیسر ول فورم

جہیز کا رواج صرف آج کا نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں سے رائج ہے ۔ شروع میں یہ رواج صرف نئے شادی شدہ جوڑوں  کے لئے نیک تمنائوں اور دلہن دولہا کے لئے شادی کے تحفے تک محدود تھا مگر پھر اس کو سماج نے بڑے بڑے تحائف سے لے کر جائیدادو دیگر مال و اسباب  کو بھی جہیز میں شامل کرتے ہوئے شادی کا لازمی حصہ بنا لیا ، مزید یہ کہ چونکہ نئے شادی شدہ جوڑے کو اپنی نئی زندگی  شروع کرنی ہوتی ہے جس کے لئے ضروریات زندگی کا سامان چاہیئے ہوتا ہے۔ شادی کے موقع پر  مہمانوں کی طرف سےجو سامان  تحائف کی صورت میں ملتا ہے  وہ  ایک گھر کو بنانے یا ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے کافی نہیں ہوتا اس لئے سماج نے یہ لازمی کردیا ہے کہ خود جوڑے کے  گھر والےضروریات زندگی کےسامان کو دیں گے ۔مزید یہ بھی ہے کہ چونکہ عورت مرد کے مقابلے میں کمزور صنف ہے اس لئے سماج نے   سامان /جہیز  کی ذمہ داری   دلہن کے گھر والوں   پر ڈال دی ہے ۔گویا جہیز کا عام تصور یہ ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کے گھر والوں کا دیا گیا مال و اسباب ۔ سماج کے ایک اور طبقہ کے نزدیک  چونکہ دلہن شادی کے  بعد  دولہا کی ذمہ داری بن جاتی ہے اور وہ ساری زندگی اس ذمہ داری کو اٹھا تا ہے اس لئے دلہن کے گھر والے شادی کے موقع پر اس ذمہ داری کا کچھ حصہ اٹھا ئیں اور جہیز میں مستقبل کے لئے ضروریات زندگی کا سامان دیں ۔ ایک اور طبقہ کے نزدیک  شادی کے موقع پر دلہن کے گھر والے اتنا سامان دے دیں کہ وہ  دلہن کی ساری زندگی کے لئے کافی ہو۔ اس رواج  نے معاشرے کواس  طرح جکڑ لیا کہ برصغیر پاک و ہند میں جہیز شادی کی سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا ہے ۔ اس خطہ میں صرف اس فرد کی شادی ممکن ہوتی   ہے جس کے پاس  جہیز کے لئے مال و اسباب ہوتا  ہے ۔ اس سنگین صورتحال کی وجہ سے کئی افراد شادی نہیں کرپاتے ۔ کئی لڑکیاں شادی نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی کر لیتی  ہیں یا پھر بغیر جہیز کے شادی کی وجہ سے سسرال والے اس کو مار ڈالتے  ہیں ۔ہند و ثقافت میں جہیز کو  لازمی سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس ثقافت میں لڑکی کو  وراثت کا حق نہیں ملتا اس وجہ سے وہ شادی کے موقع پر جہیز  لے کر جاتی ہے۔ مذہب اسلام میں ایسا نہیں ہے اس مذہب میں لڑ کی  بھی ایک لڑکے کی طرح   وراثت کی حق دار ہوتی ہے ۔ وراثت کا حق  جہیز دینے سے ختم نہیں ہوجاتا ۔ اکثر افراد حضر ت فاطمہ کے جہیز کی مثال  دیتے ہوئے جہیز کو شادی کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ آپ ﷺ  کی تمام ازواج جہیز لے کر نہیں آئی ۔ اگر جہیز لازمی ہوتا تو اس وقت کی تمام شادیوں میں یہ لازمی ہوتا ۔ مزید یہ کہ حضرت علی  آ پ ﷺ  کے چچا زاد بھائی تھے ۔ آپﷺ نے ان کی پرورش  بھی کی تھی اور ان کے سرپرست بھی تھے ۔ اس لئے کہا جاتا ہے کہ  شادی کے موقعے پر چونکہ حضرت علی کا کوئی گھر بار نہیں تھا اس لئے بطور سرپرست آپ ﷺ نے ان کو  گھر بنانے کے لئے ضروریات زندگی کی  اشیا دی۔  روایات سے پتہ چلتا ہے کہ تمام کی تمام اشیا معمو لی اور روز مرہ استعمال کی تھی ۔مزید روایات سے پتہ چلتا ہے کہ  حضرت علی نے اپنی شادی کے موقع پر  اپنی زرا کو فروخت کیا ۔  میرا کہنا یہ ہے کہ اگر جہیز اسلام میں لازمی ہوتا یا اس کے بغیر شادی  ممکن نہ ہوتی تو اس کا حکم حق مہر کی طرح قرآن میں لازمی موجود ہوتا  یا کم از کم احادیث میں اس کی  ادائیگی کا حکم ملتا ۔ مگر ایسا نہیں ہے۔  لہذا جہیز کو مذہب  اسلام سے منسوب کرنا درست نہیں ہے ۔ جہیز کی مزید تعریف یہ بھی کیجاتی ہے کہ یہ ان تحائف پر مشتمل نہیں ہوتا جو دلہن کو گھر والے اور دوست احباب شادی میں اپنی مرضی سے  دیتے ہیں بلکہ  یہ باقاعدہ سامان کی فہرست کے ساتھ دلہن کے  والدین سے مانگا جاتا ہے ، اس سے انکار پر رشتہ بھی ختم ہوجاتا ہے ۔ یہی چیز جہیز کو  معاشرتی ، مذہبی اور قانونی لحاظ سے جرم بنادیتی ہیں۔

جہاں تک جہیز کے معاملے  میں پاکستان کاتعلق ہے تو  کئی سو سال تک ہند ووں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے جہیز پاکستان کی ثقافت کا لازمی جزو بن چکا ہے ۔کوئی شادی بغیر جہیز کے نہیں ہوتی ، ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 95 فی صد شادیوں میں جہیز دیا جاتا ہے۔[1]    گیلپ سروے 2017کے مطابق 56فی صد پاکستانیوں کو جہیز کی توقع ہو تی ہے [2]  ۔ مزید یہ کہ جہیز میں باقاعدہ  سامان مانگا جاتا ہے کبھی کبھی ضروریات سے زیادہ  آسائشات یعنی گاڑی ، فلیٹ یا کوئی دیگر آٹم  مانگا جاتا ہے ۔ امیر یا صاحب حیثیت افراد تو جہیز کی ڈیمانڈ کو پورا کردیتے ہیں مگر غریب  کی چونکہ استعداد نہیں ہوتی اس لئے اس کی بیٹی کی شادی نہیں  ہو پاتی ۔گیلپ سروے کے مطابق پاکستان کے ہر چوتھے گھر میں دو سے زائد لڑکیا ں شادی کے قابل موجود ہیں  [3]  ۔اگر غریب کی بیٹی کی شادی ہو بھی جائے تو شادی کے بعد اس کو جہیز کم لانے یا نہ لانے کے طعنے  ساری زندگی سنے پڑتےہیں ۔یہ مسئلہ اس وقت سنگین ہو جاتا ہے جب کوئی لڑکی بغیر جہیز کے شادی پر سسرال والوں کے ہاتھو ں قتل ہوجاتی ہے۔کئی  اعداد و شمار کے مطابق پاکستان  اشیائی ممالک میں تیسرا  بڑا   ملک ہے جہاں جہیز نہ لانے پر قتل جیسے جرائم ہورہے ہیں ۔اندازے کے مطابق ہر سال 2000 کے قریب خواتین  جہیز نہ لانے پر قتل ہو رہی ہیں ۔[4] جہیز کی وجہ سے قتل اور خودکشی کے واقعات کے  باوجود یہ بات سچ ہے  معاشرے کے عام افراد ہی جہیز کو جائز اور اپنا حق سمجھتے ہوئے اس کی ڈیمانڈ کرتے ہیں  ۔  یہ جہیز مانگنے والے بھی معاشرے کے عام افراد ہوتے ہیں ۔ یہ نہ تو جرائم پیشہ ہوتے ہیں نہ ان کا مقصد جرم کرنا ہوتا ہے ۔ان تمام   افراد کی اکثریت عزت دار خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے ۔مزید یہ کہ  پاکستان کے غریب افراد معاشرے میں اپنی عزت اور  بیٹی کے گھر بسانے کی خاطر جہیز دیتے ہیں ، تو امیر لوگوں کو دکھاوا کرنے کے لئے جہیز دیتے ہیں ۔[5]    

اب میں اپنے موضوع کے دوسرے حصے کی طرف آتی ہوں کہ جہیز کی قانونی حیثیت کیا ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد  جہیز کے مسئلہ کو سنگین سمجھتے ہوئےہوئے اس پر باقاعدہ قانون سازی کا فیصلہ ہو ا۔1976 میں ایک ایکٹ پاس ہوا جوکہ” جہیز اور دلہن کے تحفے (پابندی ) ایکٹ “تھا ۔ اس قانون کی دفعہ 2  کی ذیلی دفعہ ب میں جہیز کی یہ تعریف بیان کی گئی ہے کہ” جہیز سے مراد ایسے مال و اسباب ( جائیداد)ہے  ،  جو شادی سےپہلے  یا شادی کے بعد بلاواسطہ یا بلواسطہ دلہن کے والدین کی طرف سے شادی میں دیا جائے مگر ایسا مال و جائیداد قانون وارثت کے تحت  اس کو بطور وارث نہیں دیا جائے۔” اسی طرح اس دفعہ کی ایک اور ذیلی دفعہ ح میں ٍٍتحفے  کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “اس سے مراد امال و اسباب کا ایسا تحفہ ہے  جو نہ جہیز ہو نہ دلہن کا بطور شادی تحفہ ہو ، مگر اس شادی میں ، شادی سے پہلے یا شادی کےبعد دولہا دلہن کو دیا جائے مگر یہ سلامی یا ۔۔۔ نہ ہو۔”  اس قانون کی دفعہ 3 میں جہیز ، دلہن کو دیئے گئے تحائف اور دیگر شادی کے تحائف لینے  دینے پر باقاعدہ پابندیا ں لگائی گئی ہیں ۔  اس دفعہ کے تحت صرف 5 ہزار روپے تک کے  تحائف دیئے جاسکتےہیں ۔دفعہ 4 کے مطابق  کوئی شخص بھی ایک سو روپے سے زیادہ مالیت کا تحفہ شادی میں نہیں دے گا ۔دفعہ 6 شادی پر کئے گے اخراجات  کی بابت پابندی لگاتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ شادی کی تقریبات پر 25 سو  روپوں سے تجاوز نہ کیا جائے۔دفعہ 8 کے مطابق جہیز میں دئے گے سامان کی ایک لسٹ  رجسٹرار کو جمع کرائے گے مزید یہ کہ شادی پر کئے گئے اخراجات کی تفصیلا ت بھی جمع ہونگی جن کو رجسٹرار ڈپٹی کمیشنر کو 15 دن میں جمع کرائے گئے ۔ سب سے اہم دفعہ 9 ہے جس میں درج بالا دفعات کی خلاف ورزی کرنے پر سزائیں نافذ کی گئے ہیں ۔ اس دفعہ کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے کوقیدکی سزا   جو کہ 6 ماہ  تک ہو سکتی ہے اور جرمانہ جو کہ 10 ہزار تک ہو سکتا ہے ، کیا جائے گا۔

  18 ویں ترمیم کے بعد چونکہ قانون سازی کے اختیارات صوبوں کو منتقل ہوگئےہیں  ۔جس کی وجہ سے اب  صرف  صوبے ہی اس معاملہ پر قانون سازی کرسکتے ہیں ۔ اس ضمن میں صوبہ خیبر پختواہ  نے  سنجیدگی کا مظاہر کرتے ہوئے سال 2018 میں قانون بنایا  جو کہ خیبر پختواہ شادی تقریبات ایکٹ 2018 ہے ۔ اس قانون میں 1976 کے قانون سے ملتے جلتے قواعد بنائے گئے ہیں ۔اس قانون کے مطابق اگر جہیز ، دلہن کو دیا گیا تحفہ یا دیگر شادی کے تحائف ایک لاکھ روپوں سے تجاوز کریں تو اس کی سزا جرمانہ جو کہ 2 لاکھ روپوں سے کم نہ ہوگا اور قید جو کہ 3 ماہ تک ہو سکتی ہے دی جائے گی ۔ اس قانون میں نہ صرف  جہیز بلکہ شادی کے موقع پر کی گی بے جا نمو و نمائش پر  بھی پابندی لگائی ہے ۔

درج بالا جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ جہیز یا شادی کے تحائف کے بارے میں  باقاعدہ ایک وفاقی قانون موجود تھا  ۔مگر افسوس کہ  اس قانون کی موثر آگاہی عوام تک نہیں پہنچائی گئی جس کی وجہ سے جہیز کا مسئلہ جوں کا توں رہا ۔ 18 ویں ترمیم کے بعد اس سنگین معاملہ پر قانون سازی صوبوں کا فرض  تھا مگرآباد ی کے لحاظ سے بڑے صوبوں یعنی پنجاب ، سندھ  اور بلوچستان نے اس معاملہ پر ابھی تک کوئی قانون نہیں بنایا جس  میں جہیز پر مکمل  پابندی لگائی گئی ہو۔ صوبہ سندھ  کی اسمبلی نے 2017 میں جہیز پر پابندی کا بل بنایا تھا مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ بل منظور نہ ہو سکا۔ جہیز پر قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے آج بھی کوئی شادی بغیر جہیز کے نہیں ہوتی ۔ اس وجہ سے  کئی حلقوں کی جانب سے اس پر قانون سازی کا مطالبہ ہوتا رہتا ہے ۔ صوبہ خیبر پختواہ   نے جہیز پر جو قانون بنایا ہے وہ بھی اچھی کوشش ہے تاہم ضرورت نہ صرف  اس امر کی ہے کہ تمام صوبے اس موضوع پر قانون سازی کریں بلکہ صوبہ خیبر پختواہ   کے قانون میں بھی ترامیم کی  جائیں ۔  کیونکہ  خیبر پختواہ   کے  قبائل میں یہ رسم پائی جاتی ہے کہ اس میں دولہا  شا دی کے موقع  پر دلہن کے گھر والوں کو باقاعدہ رقم دیتا ہے ۔ لہذا قانون میں باقاعدہ اس قسم کی  تعزیری دفعات دینی جانی چاہیے کہ کسی بھی فریق سے جہیز  یا رقم کا مطالبہ نہ ہو سکے ۔

چونکہ جہیز ایک  رسم ہے اور سماج اس پر عمل درآمد کو لازمی سمجھتا ہے لہذا ضروری ہے کہ جہیز کو بتدریج ختم کیا جائے  یعنی جہیز کو ایک دم ختم کرنے کے بجائے  مراحلہ وار ختم کیا جائے ۔ پہلے ایک سال کی مدت تک جہیز کی مالیت دو  لاکھ روپے اور شادی پر اخراجات کو 1 لاکھ روپے تک محدود کیا جائے اگر اس سے تجاوز کریں تو اس کی سزا جرمانہ جو کہ 2 لاکھ روپوں سے کم نہ ہوگا اور قید جو کہ 3 ماہ تک ہو سکتی ہے دی جائے۔  ایک سال کی مدت کے دوران عوام میں جہیز نہ دینے اور نہ  لانے کے متعلق شعور   بیدا ر کیا جائے ان کی انفرادی اور اجتماعی تربیت کا  بندوبست کیا جائے ۔ یہ مدت پوری ہونے پر تمام صوبائی حکومتیں شادیو ں کے اخراجات اور جہیز کے متعلق اعداد و شمار جمع کریں اور تمام صوبے یہ دیکھیں کہ جہیز دینے یا لینے میں کیا کمی واقع ہوئی ہے ۔ دوسرے سال جہیز کے متعلق تعزیری سزاوں کو سخت کرتے ہوئے جرمانہ اور قید کی سزا میں اضافہ کردیاجائے  اور معاشرے کی اخلاقی تربیت کے کام کو جاری رکھاجائے۔ یاد رہے کہ کسی بھی جاہلانہ رسم کا خاتمہ آسان نہیں ہے ۔ اس معاملے میں حکومت کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی سماجی معاشرتی مذبہی مکاتب فکر کو مل کر کام کرنا ہوگا ۔


[1] In Pakistan, the giving and expectation of a dowry (called Jahez) is part of the culture, with over 95% of marriages in every region of Pakistan involving transfer of a dowry from the bride’s family to a groom’s family.[25

https://en.wikipedia.org/wiki/Dowry_death#:~:text=At%20over%202%2C000%20dowry%2Drelated,100%2C000%20women%20in%20the%20world.

[2] A survey in 2017 by Gallup Pakistan showed that 56 per cent of the population expects the girl to bring dowry to marriage. see athttps://www.thenews.com.pk/magazine/you/743799-bidding

[3] According to Gallup survey in Pakistan after 4 houses there are 2 young girls whom are young and able to marriage. But our costumes and norms are tells something else. Because of dowry there are many problems facing many of families. https://asifmustafa.wordpress.com/2014/02/17/150/

[4] At over 2,000 dowry-related deaths per year, and annual rates exceeding 2.45 deaths per 100,000 women from dowry-related violence, Pakistan has the highest reported number of dowry death rates per 100,000 women in the world.s https://en.wikipedia.org/wiki/Dowry_death#:~:text=At%20over%202%2C000%20dowry%2Drelated,100%2C000%20women%20in%20the%20world.

 this dominating act is most ominously practised in Asian countries ranking Pakistan with the 3rd highest rate of dowry deaths.Two thousand cases of dowry deaths are counted per year, which are 2.45 per 10,000.see at https://nation.com.pk/02-Jul-2019/dowry

According to statistics, Pakistan has the highest reported number of dowry death rates per 100,000 women in the world see at https://www.thenews.com.pk/magazine/you/743799-bidding

[5] A study conducted in 2002 by the Society for Advancement of Community and Health, Education and Training (SACHET) titled Fight against Dowry (FAD) revealed that parents gave heavy dowry to their daughters to tell the society that how rich they are ۔. See at https://asifmustafa.wordpress.com/2014/02/17/150/

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Updates

Post Image
National Assembly passes Anti Rape Ordinances.

فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس2020 (زنا ء بالجبر) اورانسدادِ زنا ء بالجبر  (تحقیقات و سماعت) آرڈیننس2020   کو اب باقاعدہ قومی اسمبلی سے پاس کر دیا ..Read More

Post Image
WIL Forum held annual workshop

WIL Forum’s annual workshop for the staff and members was a great success!There were segments held by Chairperson Adv. Talat Yasmeen, General Secretary Adv. Rubina ..Read More