Featured Image

Importance of autonomous status of State Bank of Pakistan

Importance of Autonomous Status of State Bank of Pakistan

(In the light of Proposed new changes in the State Bank of Pakistan Act, 1956)

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی خودمختاری کی حیثیت اور اہمیت

( اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 میں تجویز کردہ نئی ترامیم کی روشنی میں )

بلاگ از راحیلہ خان

ریسرچ ڈیپارٹمنٹ

WIL Forum

اچانک ہی سوشل میڈیا پر چلنے والی اس خبر نے عوام الناس کی توجہ حاصل کر لی کہ وفاقی کابینہ نے ایک ایسے بل کی منظوری دی ہے جو کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ1956 سے متعلق ہے ۔خبروں کے مطابق اس ترمیمی بل 2021 کے ذریعے اسٹیٹ بینک کو حکومتی اثر سے نکال کر خود مختار حیثیت دی جارہی ہے ۔ یہ خود مختاری صرف رسمی نہیں ہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں مرکزی بینک مختار کار بن جائے گا ۔ وہ ضرورت پڑنے پر نہ تو حکومت کو قرضہ دے گا نہ ہی اس بینک کے گورنر کو حکومت بغیر عدالتی فیصلے کے ہٹائے گی نہ نیب بینکاری یا مالی معاملات پر اسٹیٹ بینک سے پوچھ گچھ کرے گا ۔ سب سے بڑھ کر ایسی خبریں چلی کہ یہ تمام تر کارروائی آئی ایم ایف کے ایما پر ہورہی ہے ۔ان خبروں پر کافی عوامی ردعمل سامنے آیا ۔ تاہم اب کچھ دنوں سے اس موضوع پر حکومت کی جانب سے خاموشی ہے ۔ کہیں سے کوئی خبر نہیں آئی کہ آیا حکومت اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ادارہ رکھتی ہے یا انٹی ریپ آرڈنینس 2021 کی طرح اس قانون کو بھی پارلیمنٹ میں پیش کیے بغیر ہی صدر سے منظور کرائے گی ۔ یاد رہے کہ تمام دنیا میں ہر ملک اپنا ایک مرکزی بینک رکھتا ہےجو کہ کرنسی کے اجرا سے لے کر ملک کے تمام معاشی معاملات کو استحکام دیتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہمارے ملک میں مرکزی بینک کی حیثیت سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا قیام عمل میں آیا ۔ قائد اعظم کے ہاتھوں جولائی 1948 میں اس مرکزی بینک کا افتتاح ہوا۔ یہ بینک وہ تمام فرائض انجام دیتا ہے جو دنیاکے دیگر مرکزی بینک بالعموم انجام دیتے ہیں ۔ جولائی 1974 میں اسے قومی تحویل میں لے لیا گیا تھا ۔اب یہ مکمل طور پر مرکزی حکومت کے تحت ہے ۔ تاہم اب اسے ایک آزاد خودمختار حیثیت دی جارہی ہے ۔

اسٹیٹ بینک کے کردار کی پہلی بار اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 میں تعریف کی گئی تھی ۔ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں اہم تبدیلیاں 1994 ، 1997 ، 2012 اور 2015 میں آئیں۔ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل 2021 مرکزی بینک کو جدید بنانے کے لئے اس عمل کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل کہ اس اہم ترمیمی بل کا جائزہ لیں ، ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک کے نظام اور اہم فرائض پر ایک نظر ڈالی جائے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ آیا اس ترمیمی قانون سے بینک کے انتظامی معاملات اور فرائض پر کوئی فرق پڑے گا ۔

اسٹیٹ بینک کے اہم شعبے ؛

اس وقت انتظامی حوالوں سے سینٹرل بورڈ آف ڈائر یکٹرز اس کا انتظام چلاتے ہیں ۔ جو کہ ایک گورنر اور 9 ڈائریکٹرز پر مشتمل ہے گورنر کی تقرری وفاقی حکومت کرتی ہے ۔ یوں تو اس کے کئی شعبے ہیں لیکن 3 بنیادی شعبے ہیں جو کہ یہ ہیں۔

۔1- کرنسی کے اجرا کا شعبہ

۔2- بینکاری کا شعبہ

۔3- زرمبادلہ پر کنڑول کا شعبہ

: اسٹیٹ بینک کے اہم فرائض

اسٹیٹ بینک بھی دنیا کے دیگر مرکزی بینکوں کی طرح کچھ خاص فرائض سر انجام دیتا ہے ۔

۔1= کرنسی نوٹوں کے اجراکا فرض سرانجام دیتا ہے ۔جاری کئے گے نوٹوں کے 30 فیصد کے برابر اس بینک کے پاس سونے ، چاندی یا کفالتوں یا غیر ملکی کرنسیوں کی مقدار ہونی چاہیے۔

۔2- یہ حکومتی بینک کا فرض بھی ادا کرتا ہے اور حکومت پاکستان کی نمائندگی کے فرائض بھی سرانجام دیتاہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو تمام بینکاری کی سہولیات دیتا ہے اور حکومتوں کی آمدنی اس بینک میں جمع ہوتی ہے ۔ یہ بوقت ضرورت حکومت کو قرضے بھی دیتا ہے ۔یہ حکومت کی جانب سے افراد اور اداروں کو ادائیگیاں بھی کرتا ہے اور وصولیاں بھی کرتاہے ۔ حکومت اس بینک کے ذریعے ہی قرضے جاری کرتی ہے اور یہ بینک حکومت کا مالیاتی مشیر بھی ہے ۔مختلف مالیاتی معاملات اور پالیسیوں پر مشاورت فراہم کرتاہے۔

۔ 3- یہ بینکوں کا بینک بھی ہے ۔ تمام ملک میں بینکاری نظام کی نگرانی اور ترقی اس کی ذمہ داریوں میں شامل ہے کسی بھی نئے بینک کا قیام اس بینک کی منظوری سے عمل میں آتاہے ۔تمام بینک اسٹیٹ بینک سے قرضہ لے سکتے ہیں اس کے علاوہ تمام بینکوں کے باہمی واجبات اور حسابات اسٹیٹ بینک کے ذریعے بے باک کیئے جاتے ہیں ۔

۔4- بازار زر کا محافظ بھی یہی بینک ہے ۔ یہ زر کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھتاہے ۔ اس توازن سے معیشت میں قیمتوں میں استحکام اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں مدد ملتی ہے ۔

۔ 5- 1947ء کے فارن ایکسچینج ایکٹ کے تحت بینک دولت پاکستان زرمبادلہ کے ملکی ذخائر کے انتظام کا ذمہ دار ہے۔ حکومت کے نمائندے کے طور پر اسٹیٹ بینک سونا، چاندی یا منظور شدہ زرمبادلہ کی خریدوفروخت کا مجاز ہے، اس کے ساتھ اسٹیٹ بینک ایکٹ 1956ء کی دفعہ 17،ذیلی دفعہ کے تحت اسے آئی ایم ایف سے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس کے لین دین کا اختیار بھی حاصل ہے۔

۔6- ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے نگہبان کے طور پر اسٹیٹ بینک زرمبادلہ کے انتظام اور غیرملکی قرضوں کی ادائیگی کا انتظام کرنے کا ذمہ دار ہے۔ ذخائر کے انتظام کا کام ایک سرمایہ کاری کمیٹی کررہی ہے، جو ذخائرکی مجموعی سطح ،عرصیتوں اور ادائیگی کے وعدوں کو پیش نظر رکھ کر اضافی رقوم کی سرمایہ کاری اس طرح کرتی ہے کہ ان ذخائر کا دانشمندانہ انتظام یقینی بنایا جا سکے، بنیادی مقصد تحفظ، اور بہتر سے بہتر منافع ہوتا ہے۔

۔7- یہ بینک ملک کے بازار زر ، سرمایہ اور بینکاری نظام کی ترقی کے لئے اہم فرائض سرانجام دیتاہے ۔ مختلف اسٹاک ایکسچینجوں کے قیام ، زراعت کی ترقی ، صنعتی ترقی ، بینکاری نظام کی ترقی ، زری پھیلاو کو ایک خاص حد میں رکھنا ، شر ح سود پر کنڑو ل اور مالیاتی اداروں کے قیام میں مدد دیتاہے۔ ملک میں غیرملکی زر مبادلہ پر کنٹرول کی ذمہ داری بھی اس بینک کی ہے۔

۔9- یہ بینک دیگر کئی فرائض بھی سرانجام دیتاہے ۔ ملکی معیشت کے بارے مختلف رپورٹوں میں اعداد و شمار جاری کرتاہے ۔سالانہ رپورٹ جاری کرتا ہے ۔ کئ تربیتی فرائض سرا نجام دیتاہے۔ملکی معاشی صورتحال پر مشتمل رپورٹوں کے اجرا ء سے یہ بینک عوام کو آگاہی اور اخلاقی دباؤاور مختلف اداروں کو قومی مفاد کو ترجیح دینے کی ترغیب بھی دے رہاہے۔.

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایکٹ 1956 میں منظور ہوا ۔اس قانون کے باب اول میں مختلف تعریفات ، باب دوم میں انتظامیہ جس میں بورڈ آف ڈائر یکٹرز، گورنر ، ڈپٹی گورنر ، ممبران انکی تعیناتی ، مدت ملازمت ، فرائض ، ہٹانے کا طریقہ ، بورڈ کی ذمہ داریاں ، فرائض ،مانٹیری پالیسی کمیٹی کا قیام ، اسکے فرائض واختیارات اور بینک کی جانب سے وفاق کو قرض دینے کی حد وغیرہ کا بتایا گیا ہے ۔ جبکہ باب سوئم میں متفرق کاموں کا ذکر ہے ۔ باب دوم کی دفعہ 3 کے مطابق اس بینک کا نام اسٹیٹ بینک آف پاکستان یا بینک دولت پاکستان ہو گا۔ دفعہ 4 کے مطابق بینک کا کل ادا شدہ سرمایہ ایک سو ملین روپے ہوگا۔

مزید دفعہ 5 کے مطابق اس سرمایہ میں اضافہ صرف وفاقی حکومت کی منظوری سے بورڈ کی پاس کی گئی قرارداد کے ذریعے ہوگا۔اس قانون کی دفعہ 9 میں سینٹر ل بورڈ کی تعریف بیان کی گئی ہے اور اس کے مطابق یہ بورڈ ایک گورنر ، سکریٹری ، فنانس ڈویژن، گورنر آف پاکستان ، 8 ڈائریکٹرز ( ہر صوبے سے کم از کم ایک ڈائریکٹر )پر مشتمل ہو گا ۔ اس بورڈ کے اراکین کی تعیناتی وفاقی حکومت کرے گی ۔بورڈ کا سربرا ہ گورنر ہوگا۔ تمام فیصلے اکثریت رائے دہی سے ہونگے ۔ دفعہ 9 الف میں اس بورڈ کے فرائض اور ذمہ داریوں کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس دفعہ کے مطابق بورڈ کا کام پالیسوں کا واضح کرنا ، ان کی تشریح و تعبیر جیسے تمام افعال ،زرمبادلہ کے ذخائر کے انتظام کی نگرانی ، منظوری ، اسٹریٹجک سرمایہ کاری اور رسک پالیسی جیسےامور بورڈ کی ذمہ داری ہے ۔ اس کے علاوہ بورڈ پارلیمنٹ کو سہ ماہی رپورٹ پیش کرے گاجس میں معاشی نمو ، رقموں کی فراہمی ، قرضوں ، ادائیگی کا توازن اور پرائس ڈیولیپمنٹ وغیر ہ پر مشتمل ہوگی ۔قانون کی دفعہ 9 بی کے مطابق ایک مالیاتی اور مالی پالیسیاں کاآرڈینیشن بورڈ بھی ہوگا جو کہ وفاقی مالیاتی وزیرکی سر براہی میں کام کرے گا۔دفعہ 9 ڈی کے مطابق ایک مانٹری پولیسی کمیٹی بھی ہوگی جو کہ گورنر کی سربراہی میں قائم ہوگی ۔

بینک کا ناظم اعلی اور تمام امور کا سربراہ گورنر ہوگا۔ دفعہ 10 کی ذیلی دفعہ 3 کے مطابق گورنر کا تقرر صدر 3 سال کی مدت کے لئے کرے گا صد ر کو اختیار حاصل ہے کہ گورنر کو دوبارہ 3 سال کے لئے مکرر تقرری دے دے ۔گورنر کی عمر کی حد 65 سال رکھی گئی ہے ۔ گورنر کی غیر موجودگی میں وفاقی حکومت کو قائم مقام گورنر تعینات کرنے کا اختیار ہے ۔اسی طرح وفاقی حکومت کو ڈپٹی گورنر پانچ سال کے لئے مقرر کرنے کا اختیار ہے ۔دفعہ 15 کے مطابق گورنر کو ہٹانے کا اختیار صدر مملکت کوحاصل ہے۔

اسٹیٹ بینک ترمیمی بل 2021

اسٹیٹ بینک کی خود مختاری سے متعلق اس قانونی بل کے یہ مقاصد بتائے جارہے ہیں کہ اس قانون سے اسٹیٹ بینک کی فعال اور انتظامی خود مختاری میں اضافہ ہوگا ۔ اس کا ایک اور مقصد اسٹیٹ بینک کی کارروائیوں میں شفافیت کو بہتر بنانا ، نگرانی ( ٹرنسپرسی ) کے افعال کو مضبوط بنانے اور رپورٹنگ کی ضروریات کو بڑھاکر احتساب کو تقویت دینا ، بینک کے مقاصد کے حصول میں مدد کے لئے ضروری مالی وسائل مہیا کرنااور سب سے بڑھ کر احتساب کو بہتر بنانے کے لئےیہ قانون بنایا جارہا ہے ۔( یاد رہے کہ بل کی دستاویز کوشائع نہیں کیا گیا نہ کسی ویب سائٹ پر یہ بل موجود ہے )اس بل کی اہم ترامیم کا مقاصد یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ موجودہ قانون کے مطابق بینک کے بنیادی مقاصد یافرائض محفوظ مانیٹری استحکام اور اس کا مکمل استعمال اور ملک کے پیداواری وسائل تھے مگر اب جو ترامیم تجویز کی گی ہیں ان کے مطابق بینک کا بنیادی مقصد

١- اندورنی قیمتوں میں استحکام

٢- ثانوی مقصد مالی استحکام

٣- ترجیحی مقصد وسائل کی ترقی اورانکے مکمل استعمال کوفروغ دینے کے لئے حکومت کی معاشی پالیسیوں کی حمایت کرنا ہے ۔

نئی دفعات کے مطابق اب بینک کا مجاز اور ادا شدہ سرمایہ ایک سو ملین روپے کے بجائے مجاز سرمایہ پانچ سو ارب اور ادا شدہ سرمایہ (ابتدائی) ایک سو ارب ہوگا ۔ایک اور نئی دفعہ کے مطابق اگر سرمایہ اور عام ذخائر صفر سے نیچے آجائیں۔تو ایسی صورتحال میں وفاقی حکومت کو ادائیگی شدہ سرمایہ کو بحال کرنے کے لئے ضروری رقم بینک کو منتقل کرنی ہوگی۔سب سے بڑھ کر یہ نئی دفعہ اس قانون کا حصہ بنائی جارہے جس کے مطابق حکومت کو اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا اختیار نہیں ہوگا۔مزید یہ کہ بینک اب صرف ترقی پذیر شعبوں میں ری فنانسنگ کی سہولیات ،اور کریڈٹ تک رسائی جن کی بینک خود بھی حمایت کرتا ہے کام کرے گا اور حکومتی ایما پر مالی عمل جس کی وضاحت مالیاتی اقدامات کے طور پر کی گئی تھی بند کردی جائےگی ۔

اسی طرح نئی ترمیم کے مطابق بینک اور اسکے گورنر ، ڈپٹی گورنر ،بورڈ آف ڈائریکٹرز ، ممبران ، افسران اور بینک کے ملازمین کے خلاف اس قانون کے تحت کئے گئے اقدامات پر کوئی دعوی نہیں کیا جاسکے گا۔یعنی ان کے افعال یا ترک افعال کو اسثنی حاصل ہوگا۔مزید یہ کہ نیب ، ایف آئی اے یا صوبائی تفتیشی ایجنسی ، بیورو ، اتھارٹی یا کوئی دیگر کوئی ادارہ کے ذریعہ کوئی کارروائی ، انکوائری ، تحقیقات یا کارروائی نہیں کی جائے گی سوائے اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی رضامندی کے ۔اسی طرح گورنر کی مدت ملازمت کو بڑ ھ کر 5 سال کردیا گیا ہے ،مزید مکرر 5 سال تقرر ہوسکتا ہے ۔پہلے گورنر کو صدر نااہلیت کی بناپر ہٹا سکتا تھا مگر نئی ترمیم کے مطابق اب اس کے لئے عدالت مجاز ہوگی۔

آیا دنیا کے دیگر مرکزی بینک خودمختار ہیں ؟

جیسا کہ ابتدایہ میں ہی اس بات کا ذکر کیاگیا ہے کہ دنیا میں تقریبا ہر ملک کا اپنا ایک مرکزی بینک ہے ۔ماسوائے شام، ایران اور نارتھ کوریا جن کا کوئی مرکزی بینک نہیں ہے ۔ بینک آف انگلینڈ، بینک آف کینیڈا ، ڈوئچے بنڈس بینک آف جرمنی، بینک آف جاپان ،پیوپل بینک آف چائینہ ، فیڈرل ریزرو سسٹم ریاست ہائے متحدہ امریکہ، دی ریزرو بینک آ ف انڈیا ، یہ تمام کے تمام بینک اپنے اپنے ممالک کے مرکزی بینک ہیں ۔ جو کہ اپنے ممالک میں مالیاتی پالیسی اور مالی ضابطوں کے لئے ذمہ دار ہیں ۔ مزید یہ تمام بینک قومی بینک ہیں ۔ جن کی پہلی ترجیحی قومی مفاد ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بینک اپنے اپنے ممالک کے عوامی ادارے ہیں جن کو اپنے ممالک کی پارلیمنٹ کے ذریعے عوام کو جواب دینا ہوتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کچھ ممالک نےمرکزی بینکوں کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنے کے لئے کافی حد تک آزادی بھی عطاکر دی ہے مثلا

“بینک آف انگلینڈ ” جو کہ1694 میں معرض وجود میں آیا۔ یہ بینک دنیا کاآٹھواں قدیم ترین بینک بھی ہے Bank of England (BoE)

1946 میں برطانیہ نے اسے قومی تحویل میں لیا تھا ۔1997 میں حکومت نے اس

ادارے کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنے کے لئے اس کے کچھ شعبوں کو آزادی عطا کی یوں یہ نیم خود مختار ہے ۔ یہی صورتحال بینک آف کینیڈا کی بھی ہے ۔ اسی طرح بینک آف جاپان کی مثال سب کے سامنے ہے جس کی خودمختاری کو 1998 میں تقویت ملی تاہم یہ بھی مکمل خود مختار ی نہیں ہے کیونکہ وزارت خزانہ اب بھی بجٹ کا ایک حصہ کنٹرول کرتی ہے اور مالیاتی پالیسی کے فیصلوں میں تاخیر کی درخواست کر سکتی ہے۔اس بینک کو اس وقت شدید سیاسی دباو کا سامنا کرنا پڑا جب اس نے افراط زر کو کنٹرول کرنے لئے ملک میں سود کی شرح میں اضافے کر دیا تھا ۔کہا جاتا ہے کہ سب سے زیادہ خود مختار یورپین مرکزی بینک مشترکہ یورو زون(یہ خطہ یورو زون کے نام سے جاناجاتا ہے ) کا مرکزی بینک ہے۔ اس کے اس وقت 19 ممبران (ممالک )ہیں۔ یوروپی سنٹرل بینک کا قیام 1999 میں عمل میں آیا تھا۔اس بینک کا بنیادی ہدف یورو کے علاقے میں قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنا ہے ، تاکہ یورو کی قوت خرید کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے۔ اس بینک کی انتظامیہ گورننگ کونسل پر مشتمل گروپ ہے جو مانیٹری پالیسی میں بدلاؤ کا فیصلہ کرتا ہے۔ یہ کونسل بینک کے ایگزیکٹو بورڈ کے چھ ممبروں پر مشتمل ہے۔ یہ بینک یورو کرنسی اختیار کرنے والے ممبر ممالک کی مانیٹری پالیسی کے لئے ذمہ دار ہے

۔ ڈوئچے بنڈس بینک ، جمہوریہ جرمنی کا آزاد خودمختار مرکزی بینک ہےجس کا بنیادی مقصد قیمتوںمیں استحکام ہے۔ یہ نہ صرف مرکزی وفاقی جرمنی بینک ہے بلکہ یہ 1999 سے یورو سسٹم کا حصہ ہےاور دوسرے قومی سینٹرل بینکوں کے ساتھ ذمہ داری بانٹ رہا ہے اس کی کرنسی یورو ہے ۔

فیڈرل ریزرو سسٹم ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا مرکزی بینکنگ سسٹم ہے جو کہ کانگریس نے The Federal Reserve System

ایک محفوظ ،لچکدار اور مستحکم مالیاتی نظام کی فراہمی کے لئے قائم کیا تھا۔اسے 1913 میں فیڈرل ریزرو ایکٹ کے تحت قوم کے مرکزی بینک کے طور پر نافذ کیا گیا ۔یہ نیم خو د مختار سسٹم ہے۔

“پیوپل بینک آف چائینہ ” (جو دنیا کے سب سے بڑے مرکزی بینکوں میں سے ایک ہے )، ” دی ریزرو بینک آ ف انڈیا ” وغیرہ وہ بینک ہیں جو کہ آج بھی خود مختار نہیں ہیں ۔ یعنی جن کی پالیسیاں حکومتی کنٹرول کی ما تحت ہیں ۔

: خودمختاری کی حیثیت اور اہمیت

جب مرکزی بینک خود مختار ہوتا ہے یعنی وہ حکومتی اثر سے پاک ہو تا ہے تو وہ اپنی مالیاتی ، مانیٹر ی پالیسی اور اپنا بجٹ خود بناتا ہے ۔ شرح سود کومقرر کرنے میں آزاد ہوتا ہے۔ قیمتوں کے استحکام کے لئے اقدامات کرنے میں آزاد ہوتا ہے ۔غرض یہ کہ یہ بینک حکومت کی نوٹ چھاپنے کی مشین نہیں ہوتا بلکہ بینک اپنی زری پالیسی کے ذریعے ملک میں افراط زر کو کنٹرول کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔اس کے گورنر اور بورڈ کے ممبران کو حکومتیں ہر وقت سیاسی مفادات کے تحت تبدیل نہیں کرسکتی بلکہ گورنر کو ہٹانے  

کے لئے مکمل قانون راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ تاہم ماہرین کے نزدیک یہ بھی ضروری ہے کہ احتساب کے معاملے میں مرکزی بینک مکمل آزاد نہ ہوں ۔ کیونکہ یہ عوامی ادارہ ہوتا ہے ۔۔

: خود مختار مرکزی بینک کے فوائد

: ١- سیاسی اثر و رسوخ سے پاک

کسی بھی ملک کے مرکزی بینک کے خودمختار ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو تا ہے کہ وہ حکومتی یعنی برسر اقتدار سیاسی اکثریتی پارٹی کے اثر و رسوخ سے پاک ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر بینک حکومت کے کنٹرول میں ہو تو بر سر اقتدار پارٹی عوام کو قلیل مدتی معاشی عروج دکھانے کے لئے یا پیدا کر نے کے لئے سود کی شرح کو اپنی مرضی سے مقرر کرنے کے لئے دباؤ ڈالتی ہے ۔جو کہ طویل مدتی معیشت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے ۔

: ٢۔ عوامی پالیسیوں کی مالی اعانت کی ممانعت

بر سر اقتدار پارٹی ملک کے مرکزی بینک کی رقم کو ( عوامی دکھاوے کے لئے ) عوامی پالیسیوں کی مالی اعانت کے لئے استعمال کرنے کے لئے دبا ؤ ڈال سکتی ہے ۔ مگر خود مختار مرکزی بینک حکومت کو کسی عوامی پالیسی (یعنی تعمیراتی شعبے ، ری فنانس اسکیموں کے ذریعے برآمد کنند گان، مقامی صنعت کاروں، کاشت کاروں متبادل توانائی کے لیے رعایتی قرضے فراہم جیسی اسکیمیں ) کی مالی اعانت کے لئے رقم فراہم کرنے کا پابند نہیں ہوتا ۔

٣۔ حکومت کی خود انحصاری میں اضافہ

ملک کے مرکزی بینک کے خود مختار ہوجانے کے بعدحکومت کو اپنی آمدنی پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔ حکومت داخلی یا خارجی کسی بھی معاملے میں مرکزی بینک سے قرض یا مالی اعانت نہیں مانگ سکتی ۔ اس طرح حکومت اپنی آمدنی سے عوامی پالیسیوں کو نہ صرف چلاتی ہے بلکہ اپنے بے جا اخراجات کو بھی کنٹرول کرتی ہے۔ (مرکزی بینک کے پیسوں سے سیاسی مفادات حاصل کرنے کا رجحان ختم ہوجاتا ہے ۔)

: ۔۴- مستحکم معیشت کی بنیاد

خودمختار مرکزی بینکوں کی پہلی ترجیحی چونکہ قیمتوں کا استحکام ہوتا ہے اس لئے قیمتوں کے استحکام کے محافظ ہونے کے ناطے ، مرکزی بینک صحت مند اور مستحکم معیشت کی بنیاد تشکیل دیتے ہیں۔جس سے طویل مدتی مستحکم معیشت نموپاتی ہے ۔

۔ افراط زر کو کنٹرول کرنے کی بہتر صلاحیت

.وسیع تجرباتی ثبوتوں اور نظریاتی تجزیوں سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ خود مختارمرکزی بینک افراط زر کی کم شرح کو برقرار رکھنے کے لئے بہتر صلاحیت رکھتے ہیں۔

: ٦۔ عہدیداروں کی سیاسی تقرریوں سے آزاد

خود مختار مرکزی بنک کے گورنر اور دیگر عہدے دار اقتدار میں آنے والی تبدیلی کی وجہ سے نہ تو اپنے عہدوں سے ہٹائے جاتے ہیں نہ ان کی تقرری سیاسی مفادات کو حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہے ۔ اس طرح نہ تو وہ سفارشی ہوتے ہیں نہ وہ سیاسی دباؤ کو قبول کرتے ہیں ۔ ان کا اولین مقصد مرکزی بینک کے مفادات کا تحفظ ہوتا ہے ۔

کیا پاکستان میں اسٹیٹ بینک کو خود مختار ہونا چاہیے؟

پاکستا ن جیسا ترقی پذیر ملک جس میں توازن ادائیگی مسلسل خسارے کا شکار ہے قیام پاکستا ن سے لے کر آج تک نصف صدی سے زائد عرصے میں صرف تین سال یہ توازن پاکستان کے حق میں رہا ہے بقیہ تمام عرصےمیں یہ نا موافق رہا ۔ مزید یہ ہمیشہ افراط زر یا زری پھیلاؤ کا شکار رہا ۔اس کے علاوہ پا کستان کی معیشت کا بہت بڑا انحصار غیر ملکی فنڈز یعنی قرض پر ہے جس کی وجہ ملک پر نہ صرف تقریباً 44 کھرب کا قرض ہے بلکہ ہر سال ان قرضوں پرسود کی مد میں ایک خطیر رقم ادا کی جاتی ہے جس سے ترقیاتی کاموں کے لئے وسائل بہت محدود ہوجاتے ہیں ۔ مزید یہ کہ سیاسی افراتفری کی وجہ سے ملکی پالیسیوں میں عدم تسلسل ہے جو کہ معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے ۔دوسری طرف اس وقت پاکستان کا کرنٹ اکاو نٹ خسارہ 19 ارب ڈالر ہے ۔ آئی ایم ایف کی پاکستان کیلئے پانچویں جائزہ رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں معاشی ترقی کی شرح محض 1.5 فیصد اور اگلے سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 4 فیصد ہوسکتی ہے۔ رواں سال پاکستان کی جی ڈی پی 1.5 فیصد اور مہنگائی کی شرح 8.7 فیصد تک رہے گی۔رپورٹ کے مطابق 2020-21 میں بجٹ خسارہ 7.1 فیصد تک رہے گا، رواں سال قرضوں اور واجبات کی شرح جی ڈی پی کے 92.9 فیصد تک رہے گی ، جاری کھاتوں کا خسارہ 1.5 فیصد تک رہے گا، بیرونی قرضوں کا حجم جی ڈی پی کا 42.1 فیصد تک رہے گا جب کہ  رواں سال زرمبادلہ کے ذخائر 14.4 ارب ڈالرز رہیں گے ۔

پاکستان جیسے ملک جہا ں یہ صورتحال ہے وہا ں ضروری ہے کہ ان تمام معاملات کو دیکھنے والے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو خودمختار بنایا جائے ۔پاکستان میں ماضی میں سیاسی عناصر نے اسٹیٹ بینک کو کافی نقصان پہنچایا ۔ حکومتوں نے طرح طرح کی عوامی اسکیموں کے ( یلو کیب اسکیم ، روزگار اسکیم ، لیپ ٹاپ اسکیم، قرض اتارو ملک سنوارو، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام وغیرہ ) نام پر نہ صرف عوام کو بے وقوف بنایا بلکہ اسٹیٹ بینک کو خالی بھی کردیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی سیاسی شخصیات نے سیاسی اثر و رسوخ ڈال کر قرضے لیے مگر پھر معاف کروالیے ۔ بعد میں یہ سارا پیسہ سیاسی عناصر نے بیرونِ ملک اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا ۔ یہ سلسلہ کئی سالوں سے جاری ہے ۔ لیکن اب ضروری ہے کہ اسٹیٹ بینک کو حکومتی اثر و رسوخ سے نکال کر اسے اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے ۔ اسٹیٹ بینک سے حکومت کے قرض  

لینے پر پابندی ہونی چاہیے اور حکومت اپنے وسائل سے ترقیاتی کام کرے۔ جیسا کہ اس زیر بحث بل کی تجویز کردہ ترامیم کے مطالعہ سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس قانون کےتحت اب اسٹیٹ بینک کا پہلاکردار ملک میں مقامی طور پر قیمتوں میں استحکام لانا ہے یعنی مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہے دوسرا کردار مالیاتی استحکام ( ایکسچینج ریٹ ) ہوگا۔تیسرے نمبر پر حکومت کی معاشی ترقی کی کوششوں میں مدد دینا ہے ۔ موجود ہ ایکٹ میں اسٹیٹ بینک کے مقاصد نہیں لکھے گئے۔ لیکن اب ترامیم سے یہ تین مقاصد سامنے آئے ہیں ۔مزید یہ کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے کامکمل اختیار اسٹیٹ بینک کے پاس آجائے گا ۔ماہرین معیشت اس بارے میں فکر مند ہیں کہ ان ترامیم سے جو سبسیڈیز عام غریب آدمی صارف کو ملتی ہیں وہ ختم ہوجائیں گی۔لیکن ان ترامیم کے نتیجے میں جب مہنگائی کنٹرول کرنا بینک کا اولین کام ہوگا تو لازما عام آدمی خود کفیل ہو سکے گا۔ اسٹیٹ بینک کے قانون 1956 کے تحت یہ بینک نہ صرف حکومت کو بوقت ضرورت قرض دیتا ہے بلکہ دیہی علاقوں ، صنعتی شعبوں ہاوسنگ اور دوسرے شعبوں کے لئے اسٹیٹ بینک کا قرض دینا لازمی ہے تاہم ترمیم کے بعد یہ سلسلہ ختم ہوجائےگا۔ گویا حکومت اپنے اخراجات اور ترقیاتی کاموں کے لئے اپنے وسائل استعمال کرے گی۔

ساری درج بالا بحث کے بعد یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ اسٹیٹ بینک کو بینک آف انگلینڈکی طرح خودمختار ہونا چاہیے ۔ اسٹیٹ بینک مانیٹر ی پالیسی اور دیگر مالیاتی پالیسیاں سیاسی و حکومتی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر بنائے۔ تاہم یہ خود مختاربینک پاکستانی پارلیمنٹ کے سامنےجواب دہ ہوناچاہیے کیونکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسیاں براہ رست عوام کو متاثر کرتی ہیں اگر پالیسی بنانے والے جواب دہ نہیں ہونگے یا احتساب سے مبرا ہونگے تو یہ عمل قانون کی حکمرانی کو نقصان پہنچائے گا۔دنیا بھر میں احتساب کا نظام سب سے پہلے ان افراد کو گرفت میں لیتا ہے جو انتہائی طاقتور ہوتے ہیں۔

مزید یہ کہ اس قسم کی قانون سازی کسی بھی بیرونی اشارے پر نہین کی جانی چاہیے جیسا کہ اس مجوزہ بل کے بارے میں یہ رائے پائی جاتی ہے کہ آ ئی ایم ایف کی شرائط کے تحت اسٹیٹ بینک کے قانون میں ترامیم کرکے اسے خود مختار بناکر معیشت کو نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ ۔ اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے اور اس پر قومی اتفاق رائے سے قانون سازی ہونی چاہیے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Updates

Post Image
National Assembly passes Anti Rape Ordinances.

فوجداری قانون (ترمیمی) آرڈیننس2020 (زنا ء بالجبر) اورانسدادِ زنا ء بالجبر  (تحقیقات و سماعت) آرڈیننس2020   کو اب باقاعدہ قومی اسمبلی سے پاس کر دیا ..Read More

Post Image
WIL Forum held annual workshop

WIL Forum’s annual workshop for the staff and members was a great success!There were segments held by Chairperson Adv. Talat Yasmeen, General Secretary Adv. Rubina ..Read More