Featured Image

نسل نو کا تحفظ –تعمیر اور کردار – سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

عنوان: مقالہ

نسل نو کا تحفظ –تعمیر اور کردار – سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

مختصر تعارف محقق :

ایڈوکیٹ طلعت یاسمین ریسرچ اسکالر

سٹی کونسلر کراچی

رابطہ نمبر: 72787 033222

ای میل:  adv.talatyasmeen14@gmail.com

ایڈریس:فلیٹ نمبر D/202 گلستان جوہر بلاک 17 سٹی بیکری کراچی،پاکستان

تعلیمی قابلیت:ایم اے اسلامک ہسٹری،ایل ایل بی،عربک سرٹیفیکیٹ کورس ،بیسک ٹریننگ پروگرام، ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر(ERD Center)،شریعہ اکیڈمک کورس اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

کئی جامعات میں اپنے مقالے پیش کرچکی ہیں اور چار کتابوں کی شریک مصنفہ  بھی ہیں۔

تمہید:

 ایک اہم موضوع ہے جو معاشرے کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کا تقاضہ رکھتا ہے کسی بھی قوم کے مستقبل کی ضامن وہاں کی نوجوان نسل ہوتی ہے دور جدید میں جہاں ٹیکنیکی ترقی اور سماجی تبدیلیاں تیزی سے رونما ہو رہی ہیں وہیں نوجوان نسل کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے جیسے اخلاقی زوال, فکری زوال ,انٹرنیٹ کا غلط استعمال ,خاندانی نظام کی کمزوری, نفسیاتی چیلنجز, جرائم وغیرہ. جبکہ روایتی طور پر محض تعلیم کو نسل نو کی حفاظت اور نشونما کا بنیادی ذریعہ سمجھا جاتا ہے مگر یہ ناکافی ہے تحفظ صرف علم کی بنیاد پر نہیں بلکہ کردار کی تعمیر اخلاقی اقدار کی تربیت اور عملی زندگی کی تیاری سے ممکن ہے جاپان اور جنوبی کوریا جیسے عصر حاضر  کے ممالک اس کی بہترین مثالیں ہیں جہاں اخلاقی وکردار  سازی کی تربیت کے زریعے قوم کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور معاشی ترقی کو ممکن بنایا گیا۔

 نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سیرت طیبہ ہر دور اور ہر قوم کے لیے بہترین نمونہ ہے[1] کیونکہ یہ انسانی فطرت کے مطابق کامل اصول پیش کرتی ہے جہاں ایک طرف انفرادی تربیت کا خوبصورت نظام پیش کیا جاتا ہے تو دوسری طرف تمام انسانیت کے لیے انصاف اور عدل قائم کرتاہے اس مقالے کے ذریعے نوجوان نسل کو درپیش چیلنجز کا حل سیرت نبوی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے افاقی اصولوں کی روشنی میں تلاش کرنے کی ایک علمی کوشش ہے اس کے علاوہ اس تحقیق میں ملکی قوانین و بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کا موازنہ کرتے ہوئے یہ ثابت کیا گیا ہے کہ سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم عصری و قانونی حقوق سے کہیں زیادہ ہما جہت ہما گیر و موثر ہیں اس مقالے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ نسل نو کی تربیت میں تعلیمی اداروں کے نصاب میں عملی طور پر  سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تربیتی  پہلو کو تعلیمی نصاب اور معاشرتی ڈھانچے کا حصہ بنائیں۔ مزید تحقیق سے یہ بات بھی سامنے ائی ہے کہ اگرچہ  پاکستانی اور بین الاقوامی قوانین نسل نو کے حقوق اور تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں تاہم ریاستی سطح پہ ان کے نفاذ میں کہیں نہ کہیں کمی ہے جس کی وجہ سے نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی میں کمی نظر اتی ہے جیسے حالیہ ہی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں تقریبا 13 کروڑ نوجوان یعنی کل ابادی کا تقریبا 64 فیصد 15 سے 29 سال کی عمر کے ہیں مگر ان میں سے 7.9 نشے میں مبتلا ہو چکے ہیں[2] اس کے علاوہ 2023 کی تحقیق سے یہ بات بھی سامنے ائی ہے کہ پاکستان میں خودکشی کی شرح 18 سے 25 سالہ نوجوانوں میں 15 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ 40 فیصد طلبہ اخلاقی مسائل کا شکار ہیں[3] وجہ یہ ہے کہ تعلیم بغیر کردار سازی کے حفاظت کی ضمانت نہیں دے سکتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل  قومی ترقی میں حصہ نہیں لے پا رہے ہیں مقالہ اس بات پہ زور دیتا ہے کہ محض معاشی اصلاحات اور تعلیم کافی نہیں بلکہ جب تک نوجوانوں کی کردار سازی کے لیے سیرت نبوی کریم صلی علیہ اللہ علیہ وسلم کے نمونے کو نظام کا حصہ نہیں بنایا جائے گا تب تک ان کی نفسیاتی الجھنوں اور اخلاقی بحران کا حل ممکن نہیں ہےاخر میں یہ مقالہ حکومت پاکستان کو ایک عملی فریم ورک پیش کرتا ہے جس کے ذریعے تعلیم ،ہنراور سیرت

کی روشنی میں ایک ایسی نسل تیار کی جا سکتی ہے جو ملک کے لیے بوجھ نہیں بلکہ اس کی بقا اور استحکام کی ضامن ہو

کلیدی الفاظ:

 نسل نو، تعمیر، کردار ،نسل نو کو درپیش مسائل،ملکی اور بین الاقوامی قوانین کا نسل نو کی کردار سازی و تعمیر میں حصہ، ریاستی ذمہ داریاں۔

علمی و فکری بحث:

اسلام میں نسل نو کا مقام اور اہمیت :

اسلام ایک جامع ، ہمہ گیر اور مکمل دین ہے۔ زندگی کا کوئی شعبہ ایسا نہیں ہے جس میں اسلام سے رہنمائی موجود نہ ہو اللہ پاک نے اس رشد و ہدایت کے لیے جس ذات بابرکت کو چنا اس کی فضائل کے بارے میں خود اللہ تبارک و تعالیٰ قر آن میں فرماتے ہیں:’’پسیقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں عمدہ نمونہ ہے۔‘‘[4]قرآن مجید نے نبی کریم ﷺ کی سیرت کو انسانیت کے لیے بہترین عملی نمونہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی مذہبی، معاشرتی، سیاسی، تعلیمی، معاشی اور عسکری ہر پہلو سے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی مبارک زندگی میں حاکم، رہنما، سپہ سالار، معلم اور پیشوا کی حیثیت سے معاشرے کے ہر طبقے کی اصلاح فرمائی۔ خاص طور پر نوجوانوں کی کردار سازی پر خصوصی توجہ دی، کیونکہ نوجوان ہی امت کے مستقبل کی بنیاد ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ کی دعوت پر سب سے زیادہ نوجوانوں نے لبیک کہا اور آپ ﷺ نے ان کے عقیدہ، عبادات، اخلاق، تعلیم اور زندگی کے ہر معاملے میں ایسی بہترین تربیت کی کہ وہ معاشرے کے مثالی انسان بن گئے۔ اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ عرب کے منتشر اور لڑنے والے لوگ اخوت، محبت، سچائی اور عظمت کا نمونہ بن گئے۔

عالمی ادارہ صحت  کے مطابق 15 سال سے لے کر 14 سال تک کی عمر کو نوجوان کہا جاتا ہے اس میں بچپن اور لڑکپن کا د ور بھی شامل ہے دنیا کی کل آبادی کے مطابق 42 فیصد آبادی 25 سال سے نیچے کی عمر پر مشتمل ہے اس کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کی آبادی بڑھتی ہی جا رہی ہے۔[5] نوجوان کسی بھی قوم کا وہ قیمتی سرمایہ ہیں جن کے حوصلے، ہمت اور محنت پر ملک کی ترقی یا تنزلی کا دارومدار ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں آنے والی ہر بڑی تبدیلی اور انقلاب، چاہے وہ سیاسی ہو، معاشی ہو یا سماجی، نوجوانوں ہی کی مرہونِ منت ہے۔ روس اور فرانس کے انقلابات سے لے کر جدید دور کی تحریکوں تک، ہر جگہ نوجوانوں نے ہی ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ہر تنظیم اور ملک اپنے روشن مستقبل کے لیے تمام تر امیدیں اپنے نوجوانوں سے وابستہ کیے ہوئے ہیں۔[6]

نسل نو کا کردار، قرآنی تناظر میں:

قرآن مجید نے معاشرے کی تبدیلی اور حق کے قیام میں نسل نوجوانوں کے کردار کو کلیدی اہمیت دی ہے۔ جیسے :

اصحابِ کہف کی جرات: اللہ تعالیٰ نے اصحابِ کہف کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی ۔آگے فرمایا ہم نے ان کے دل اس وقت مضبوط کر دیے جب وہ اٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کر دیا کہ ہمارا رب بس وہی ہے جو آسمان اور زمین کا رب ہے ہم اسے چھوڑ کر کسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بے جا بات کریں گے۔یہ وہ چند باہمت نوجوان تھے جو اپنے وقت کے ظالم بادشاہ کے سامنے ڈٹ گئے۔ انہوں نے مصلحت پسندی کے بجائے اللہ کی توحید کا برملا اعلان کیا، جس کے بدلے میں اللہ نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا اور انہیں ہدایت میں ترقی عطا فرمائی۔[7]

حضرت موسیٰؑ اور نوجوان نسل: جب فرعون کا ظلم عروج پر تھا اور بڑے بوڑھے خوف زدہ تھے، اس وقت بھی حضرت موسیٰؑ کا ساتھ دینے والے چند نوجوان (ذریۃ) ہی تھے۔ انہوں نے فرعون کے عذاب اور اپنوں کی مخالفت کے باوجود حق کو پہچانا اور اس پر ثابت قدم رہے۔اللہ پاک نے فرمایا کہ موسی کو اسی قوم میں سے چند نوجوانوں کے سوا کسی نے نہ مانا فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربراہ لوگوں کے ڈر سے کہ فرعون ان کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔

لفظ ’’ذریت‘‘ کی اہمیت: قرآن نے یہاں ’’ذریت‘‘ (اولاد/نوجوان) کا لفظ استعمال کر کے ایک نفسیاتی حقیقت واضح کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پُرخطر حالات میں حق کا ساتھ دینے کی جرت اکثر نوجوانوں میں ہی ہوتی ہے۔[8]

بڑوں کی مصلحت پسندی بمقابلہ نوجوانوں کا جذبہ: جب قوم کے بڑے اور تجربہ کار لوگ دنیاوی مفادات، خوف اور آسائش کی وجہ سے حق کا ساتھ دینے سے کتراتے ہیں، تب یہ نوجوان نسل ہی ہوتی ہے جو خطرات کی پروا کیے بغیر سچائی کے علمبرداروں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ ایمان کی پختگی اور باطل کے  خلاف کھڑے ہونے کا حوصلہ نوجوانوں کا خاصہ ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی بڑی تبدیلی آئی، اس کا ہراول دستہ وہی نوجوان تھے جنہوں نے اپنے آرام پر حق کو ترجیح دی۔[9]

نسل نو کا تحفظ – اسکی تعمیر اور کردار سازی –ریاست پاکستان کی حکمت عملی

جس قوم کے نوجوان بیدار و باشعور ہوں تو اس قوم کا مستقبل بہت محفوظ ہوتا ہے اس کے برعکس وہ قوم جس کے نوجوان غیر فعال اور تن آسانی کے مرض میں مبتلا ہوں وہ قوم تنزلی کا شکار ہو جاتی ہے نوجوانوں کا فعال کردار ہی قومی ترقی کا ضامن ہے اور نوجوان ہی نسل  صحیح معنوں میں کسی قوم کی افرادی قوت ہے  ۔

21ویں صدی میں ٹیکنالوجی کے انقلاب نے نہ صرف ٹیکنیکی  تبدیلی لایا ہے بلکہ فکر و نظر کی تبدیلی کا پیش خیمہ بھی بن گیا ہے اور انسانی زندگی کے ہر ہر پہلو کو بالکل بدل دیا ہے مسلم دنیا جو پہلے ہی استعماری اثرات سے ازما تھی اب ایک اور مشکل حالات سے نبرد ازما ہے وہ ہے ڈیجیٹل یلغار جو کہ دراصل فکری استعمار ہے جیسے فکری الحاد, دہریت سیکولرزم ,سائبر کرائم, فحاشی۔

جبکہ مشرقی و مغربی افکار کی یلغار اور اس کی مرعوبیت نے اسلام کے حاکمیت الہی کے تصور کو ہی دھندلا کر کے رکھ دیا ہے اور نسل نو اس انے والے سیلاب کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل انتہا پسندی اور دہشت گردی جیسے جرائم کا شکار ہو رہے ہیں ۔

نسل نو کو فکری تعمیر ملی تعمیر معاشرتی تعمیر خاندانی و معاشی تعمیر میں لانے کے لیے ضروری ہے کہ نسل نو کہ فکر اور نظر کے تحفظ کا پورا بندوبست کیا جائے ریاست پاکستان کی بات کی جائے تو نسل نو کے فکر و نظر کے تحفظ کے لیے ریاست نے بہت سارے قوانین بنائے ہیں ۔

سائبر کرائم اور فحاشی کی روک تھام:

 پیکا ایکٹ[10] پریونشن اف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کا مقصد فحاشی،ہراسانی ، نفرت انگیز مواد جو کہ انٹرنیٹ پہ دیا جائے اس کو روکنا ہے اس کے تحت سائبر دہشت گردی اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے پہ سخت سزائیں دی جاتی ہیں

سوشل میڈیا رولز [11] کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ملکی سالمیت کے خلاف جو بھی مواد ہو یا اخلاق باختہ یا غیر قانونی مواد کو  بلاک کرے۔

2. دہشت گردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ:

نیشنل ایکشن پلان [12]یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف ایک جامع پالیسی ہے جس کا مقصد نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ واریت پھیلانے والے تمام لٹریچر پہ پابندی عائد کی جا سکے ۔

نیشنل کاؤنٹر وائلنٹ ایکسٹریمزم پالیسیNACVE

[13]یہ پالیسی خاص طور پہ نسل نو کو فکری طور پر انتہا پسندی سے بچانے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کے لیے بنائی گئی ہے

نصاب کی تبدیلی یکسا قومی نصاب ایس این سی کا مقصد نوجوانوں میں ایسی فکر پیدا کرنا ہے جو اسلامی اقدار اور حب الوطنی پہ مبنی ہو تاکہ وہ انتہا پسندانہ نظریات کی طرف مائل نہ ہوں ۔

3. فکری تحفظ اور نظریاتی تربیت:

پائیڈPIDE اور ایچ ای سی کی پالیسیاں:[14]

اعلی تعلیمی اداروں میں حکومت نےایسے پروگرامز متعارف کروائے ہیں جو نسل نو کو تنقیدی سوچ سکھاتے ہیں تاکہ وہ سیکولرزم یا انتہا پسندی کے درمیان توازن برقرار رکھ سکیں۔

پیغام پاکستان[15]

یہ ایک متفقہ قومی بیانیہ ہے جسے ریاست نے تمام مکاتب فکر کے علماء کی مدد سے نافذ کیا ہے اس کا مقصد دہشت گردی اور خود کش حملوں کے خلاف شرعی و قانونی موقف واضح کر ناہے تاکہ نوجوان گمراہ نہ ہو سکیں ۔

4. منشیات اور اخلاقی جرائم:

[16]اینٹی نارکوٹکس قوانین 1997+CNSA

تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو روکنے کے لیے حکومت  نے خصوصی قوانین و نگرانی کے نظام کو سخت کیا ہے تاکہ نوجوان نسل کی جسمانی و ذہنی صحت محفوظ رہ سکے ۔

5. یوتھ ڈیویلپمنٹ پروگرام:

 کامیاب جوان پروگرام 2019:[17]

معاشی نا امیدی نوجوانوں کو جرائم کی طرف دھکیلتی ہے ریاست چھوٹے قرضوں اور ہنر مندی کے ذریعے نوجوانوں کو مصروف رکھ کر انہیں تعمیری سرگرمیوں کی طرف راغب کرنے کا پروگرام ہے

 ریاست پاکستان نے نسل نو کی تعمیر و ترقی کے لیے مختلف میگا پروجیکٹس بنائے ہیں۔

 جیسےوفاقی سطح پہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام ایجوکیشنEducation Employment Engagement and Environment کے تحت کام ہو رہا ہے اس کے ساتھ پرائم منسٹر لیب ٹاپ اسکیم،یوتھ بزنس اینڈ ایگری کلچر لون اسکیم،ڈیجیٹلیوتھ ہب جس میں نوجوانوں کو سکالرشپ اور انٹرنشپ سے جوڑا جاتا ہے۔[18]

 ہنر مند پاکستان (National Vocational and Technical Training Commission (NAVTTC جس میں کلاؤڈ کمپیوٹرنگ،گرافک ڈیزائننگ جیسے جدید شعبوں میں مفت فنی تربیت ہزاروں نوجوانوں کو دی جاتی ہے پھر نیشنل انوویشن ایوارڈ ہے جس میں نئے اور جدید آئیڈیاز اور نئے سٹارٹ اپ رکھنے والے نوجوانوں کو مالی امداد بھی دی جاتی ہے اورتکنیکی مدد بھی فراہم کی جاتی ہے۔[19]

اسی طرح پنجاب حکومت کے بھی اقدامات ہیں ہونہار اسکالرشپ پروگرام ، سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم2025[20]

ہنر من نوجوان کارڈ کھیلتا پنجاب گیمز ای ٹیکسی اسکیم[21]

خیبرپختونخواحکومتنے بھی نوجوانوں کی معاشی خود مختاری پہ بہت توجہ کی ہے احساس نوجوان پروگرام ہے۔[22]

 ڈیجیٹل انٹرنشپ پروگرام ہے۔[23]احساس ہنر پروگرام ہے۔[24]

بین الاقوامی سطح پر روزگار دلوانے کے لیے سندھ اور دیگر صوبوں نے عالمی اداروں جیسے سٹی اینڈ گلیڈر  کے ساتھ معاہدے کیے ہیں تاکہ ان نوجوانوں کے ہنر کو عالمی شناخت ملے۔[25]

 اسی طرح قومییوتھ ایپملائمنٹ پالیسی 2025 ہے[26] جو کہ بیرون ملک 1.8 ملین ملازمتوں کے مواقع پیدا  اور ہر ضلع میں ایپملائمنٹ ایکسچینج قائم ہے ۔

NRKNA (National Rahmatullah aalmin Wal Khadim un Nabi in Authority) [27]2022کے تحت تعلیمی حکمت عملی نصاب میں سیرت طیبہ اسلامی افکار اور قومییکجہتی کو شامل کرنے کے لیے بنایا گیا ہے جس کا مقصدبچوں اور نوجوانوں میں احساس ذمہ داری رواداری ایمانداری رکھا گیا ہے اور وہاں تعلیم کو کردار سازی کا ذریعہ بنایا گیا ہے اور اس میں اسکولوں مساجد اور کمیونٹی مراکز میں ورکشاپ بھی شامل ہیں اور اس کے علاوہ نرم خوئی امانت داری معاشرے کے لیے مفید فرد بننا اس تعلیمی ڈھانچے کو کا جب تجزیہ کیا جائے تو ہم یہ دیکھتے ہیں اخلاقیات کو انہوں نے سیرت کے چیپٹر سے الگ رکھا ہے اور ماہوار شیڈول بنایا ہے جس میں تین ماہ کے بعد سیرت پھر تین ماہ کے بعد  اسلامی اداب ۔پالیسی کا جو بنیادی ڈھانچہ ہے یہ بھی مکمل طور پر سیرت اور نصاب کا آہنگ نصاب نہیں  ہے۔

پاکستان میں نسل نو کی فکری معاشی سماجی معاشرتی اور خاندانی زبوں حالی:

 نسل نو ملکی ترقی اور بقا کا اہم ترین ذریعہ ہونے کے باوجود پاکستان میں ان کی حالت انتہائی زبوں حال ہے اس زبوں حالی کے پیچھے نہ صرف مذہبی اخلاقی و تعلیمی پستی ہے بلکہ کچھ اور عوامل بھی اس کے ذمہ دار ہیں جیسے اقتصادی عدم استحکام ہے سیاسی عدم استحکام غیر منصفانہ  قانونی نظام غیر ملکی ثقافت کے منفی اثرات وغیرہ ۔

نسل نو کی زبوں حالی:

`اس کے کئی عوامل ہیں جیسے:

تعلیمی پستی اور عدم مساوات:

پاکستان میں نسل نو معیاری تعلیم سے محروم ہے۔ 40 فیصد سے بھی کم بچے اور نوجوان ملک میں معیاری تعلیمی اداروں میں داخلہ لے سکتے ہیں باقی نجی یا غیر معیاری اسکولوں میں زیر تعلیم ہے۔تعلیم محض معلومات کا ذریعہ بن گیا ہے اور اس کے ساتھ نمبر بندی اداروں کی جس کی وجہ سے نوجوان سوچنے سمجھنے سوال کرنے اور اخلاقی فیصلہ سازی کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتے جا رہے ہیں تقریبا 23 فیصد نوجوان ناخواندہ ہیں تقریبا 26 اشاریہ دو ملین تعلیم چھوڑ کر اپنا کام شروع کر چکے ہیں اس کے علاوہ تعلیم کا قومی بجٹ زیرو.8 فیصد پر منجمد ہے[28]

معاشی بدحالی اور بے روزگاری:

ملک میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 15 سے 20 فیصد کے درمیان ہیں جبکہ بے روزگاری کی شرح 12 اشاریہ چھ فیصد ہے۔[29] نوکریوں کی کمی اور مہنگائی کے باعث نوجوان ذہنی طور پہ مایوس اور پریشان ہیں بہت سارے نوجوانوں کے پاس اتنی کم آمدنی ھوتی ہے کہ وہ بنیادی ضروریات زندگی کے حصول میں ناکام ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے جرائم, انتہا پسندی, مایوسی اور خودکشی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے صرف لاہور کی رپورٹ جو کہ ڈیلی پاکستان ان لائن میں شائع ہوئی ہے کہ سال 2025 میں مختلف وجوہات کے بنا پر لاہور شہر میں 116 افراد نے خودکشی کی جس میں سے 83 مرد اور 33 خواتین شامل ہیں اور یہ زیادہ تر غربت سے تنگ ا کر انہوں نے خودکشی کی[30]۔ایک اور رپورٹ کے مطابق  جس میں کہا گیا ہے کہ تقریبا روزانہ 700سو نوجوان ڈرگ کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں یہ مستند طبعی جریدوں ائی جے ایس گلوبل ہیلتھ اور ریسرچ گیٹ کے مطابق ہے۔

اخلاقی اور روحانی پستی تیزی سے بدلتے ہوئے اقتدار مغربی ثقافت سوشل میڈیا کی وجہ سے نسل نو اخلاقی اقدار حیا اور دینی شعور کی کمی کے اثرات میں اگئے ہیں اج کل کی نسل نو ایسے ماحول میں پروان چڑھ رہے ہیں جہاں اسلام صرف روایت یا فرضی زندگی تک محدود ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ اسلام ایک زندہ اخلاقی اور سماجی نظام کی صورت میں ان کے سامنے آتا ۔

سماجی و نفسیاتی دباؤ:

موجودہ زمانے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے سماجی تبدیلی معاشرتی مقابلہ سوشل میڈیا کی دوڑ والدین کی بے توجہی  خاندان کی ٹوٹ توڑ پھوڑ نے نسل نو کو زبردست نفسیاتی اور غیر یقینی صورتحال میں ڈال دیا ہے ماہر نفسیات اور حالیہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے تقریبا 15 فیصد سے زائد نوجوان کسی نہ کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ خلع و طلاق کی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ نوجوانوں کا ذہنی عارضے میں مبتلا ہونا ہے۔

2 ملکی قانونی چیلنجز اور نسل نو کے تحفظ میں فرق؛

پاکستان میں نوجوانوں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کئی قوانین اور پالیسیاں موجود ہیں لیکن اس کے نفاذ میں سنگین چیلنجز ہیں۔

قانون کی عملداری میں کمی:

مستحکم معاشرے میں صرف قانون سازی نہیں ہوتا بلکہ قانون کو نافذ بھی کیا جاتا ہے اور اس کے لیے سخت انتظامات کیے جاتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارے کمزور بدعنوان  اور عدل و انصاف سے بہت دور ہیں جیسے پولیس, عدالتی نظام اور انتظامیہ میں وسائل کی کمی رشوت اور سیاسی دباؤ ہے جس کی وجہ سے بچوں اور خصوصا نسل نو کے خلاف جرائم جنسی حیراسمیگی معاشی بدحالی اور میڈیا کی بے حسی کی شکایتوں کا انصاف نہیں ہوتا ہے[31]

پرنٹ الیکٹرانک اینڈ سوشل میڈیا اور سائبر جرائم

نسل نو کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ نسل نو کو سائبر جرائم میڈیا کے تشدد اور جنسی حرازگی سے محفوظ رکھنے کے لیے پاکستان میں موجود ان قوانین کو صحیح طور پہ نافذ کیا جائے لیکن پاکستان میں سائبر قانون 2016 ابھی تک کافی حد تک کمزور ہے ان کے نفاذ میں بہت زیادہ مشکلات ہیں مثال کے طور پر ان لائن حیرسمنٹ یا سائبر بلنگ کی شکایت قانونی طور پہ نافذ ہونے میں بہت پیچیدگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے

نسل نو کے تحفظ میں ریاستی قانونی لاپرواہی:

ریاست قانون تو بنا لیتی ہے لیکن بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قانون بنے ہوئے چار چار سال گزر جاتے ہیں لیکن ان کے رولز نہیں بن پاتے جس کی وجہ سے ان کے نفاذ میں رکاوٹ ہوتی ہے اس کے علاوہ ریاست کی انتظامی افرا تفری اور ریاست کی ذمہ داریوں سے روگردانی کی وجہ سے نوجوانوں کے خلاف جرائم معاشی بدحالی اور اخلاقی تباہی کو روکنے کے لیے موثر اقدامات نہیں ہو پاتے

معاشرتی پستی:

معاشرہ انسانوں اور انسانوں کے رویوں اور اس میں موجود قوانین اور ان کے نفاذ کا ایک مکمل مجموعہ ہے وہ معاشرہ ہی ترقی کرتا ہے جس میں معاشرے کے افراد وہاں کے قوانین وہاں کے ثقافت ہم اہنگ ہوں بدقسمتی سے پاکستان میں غربت تعلیمی پسماندگی مذہبی انتہا پسندی کے ماحول میں نسل نو کو جو قانونی حقوق ملے ہوئے ہیں اس کا تحفظ نہیں ہو پاتا کیونکہ یہ سب چیزیں قانون کی اثر انگیزی کو کمزور کر دیتی ہیں

نسل نو کا سماج میں موثر ترجمانی دیکھا یہ گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین میں نوجوانوں کی شرکت اور نمائندگی کی بات کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں نوجوانوں کو سیاسی قانونی اور تعلیمی فورمز میں اہم کردار دینے سے گریز کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے نسل نو اپنے مسائل کو صحیح سے حل نہیں کر پاتی اور ان کے مسائل ہنوز توجہ طلب رہتے ہیں۔

نسل نو کے تحفظ میں پاکستان اور مختلف ممالک کا تقابلی جائزہ:

تعلیم کے شعبے کو لیں تو جرمنی میں طلبہ سیکنڈری اسکول کے بعد وکیشنل  ٹریننگ پروگرامز میں شامل ہو جاتے ہیں وہاں کا نظام تقریبا 51 فیصد افرادی قوت کو ہنر سکھاتا ہے جس سے وہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار ہوتے ہیں اس کے برعکس پاکستان میں تعلیمی ادارے ہیں جن میں صرف دو لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہے جبکہ ملک میں کل چار کروڑ 80 لاکھ طلبہ ہیں یعنی ہر ہزار طلبہ میں سے صرف چار طلبہ وکیشنل اداروں کا حصہ ہیں اسی طرح پاکستان کے تقریبا 31 فیصد نوجوان این ای ای ٹی یعنی نہ تعلیم میں نہ روزگار میں نہ تربیت میں شامل ہیں مزید یہ کہ تعلیمی نظام نوجوانوں کو نہ ٹیکنیکی مہارت دے پا رہا ہے نہ ہی ضروری سافٹ سکلز مثلا کمیونیکیشن مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ٹیم ورک سکھا رہا ہے اس کے نتیجے میںTEVETA( technical educational advocational training authority) کے فارغ تحصیل افراد کو روزگار یا کاروبار میں داخل ہونے میں مشکلات پیش اتی ہیں بنگلہ دیش کا youth entrepreneurship development program ایک اچھا ماڈل ہے اس میں نوجوان رسل کو وکیشنل تربیت رہنمائی اور مالی مدد دی جاتی ہے۔[32]

دیگر ممالک میں نوجوانوں کی خواندگی کی شرح

مالدیپ میں ٪98 سری لنکا ٪93 انڈیا ٪ 89اور بنگلا دیش ٪ 79کی شرح خواندگی کے ساتھ موجود ہے۔[33]

ورلڈ وار سیکنڈ کے بعد جرمنی اور جاپان نے وکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ایجوکیشن پر بہت توجہ دی ہے جبپان نے تربیت یافتہ ہنر مند افرادی قوت تیار کی ہے جس نے اسے ٹیکنالوجی کی قیمت بنا دیا ہے اسی طرح جرمنی نے پیشہ ورانہ تعلیم کے نظام پہ خاص توجہ دی ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں سے ایک معیشت بن گیا ہے۔[34]

ملک میں پچھلےتین سال کے دوران مہنگائی لاقانونیت اور بے روزگاری سے تنگ 28 لاکھ 645ہزار پاکستانی بیرون ملک چلے گئے محکمہ پروٹیکٹر اینڈ امیگرینٹس سے ملنے والے اعداد و شمار کے مطابق بیرون ملک جانے والوں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے بیرون ملک جانے والے افراد ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی لاقانونیت اور بے روزگاری کی وجہ سے ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے جبکہ ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی بھی تھی جنہیں ملک میں کاروبار شروع کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔[35]

بے روزگاری ایک پیچیدہ مسئلہ ہے جس سے جڑے ہوئے مسائل کا ایک شیطانی دائرہ شروع ہو جاتا ہے جو نوجوانوں کو بے سمت جذباتی سیاست کا اعلی کار بنا دیتے ہیں جیسے بینک و گھریلو چوری سماجی عدم تحفظ منشیات کا استعمال اور لاقانونیت جیسے مسائل کا ایک منہوس دائرہ شروع ہو جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ نوجوان کا اپنے والدین کے ساتھ مضبوط ربط میں کمی کی وجہ سے نوجوان سماجی مسائل کو حل نہیں کر پانے کے چکر میں فرسٹریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور جس سے وہ خودکشی اور نشے میں مبتلا ہو جاتے ہیں ابادی کے لحاظ سے پاکستان ایشیا کے 15 بڑے ممالک میں شامل ہیں اور جہاں نوجوانوں کی ابادی کا زیادہ حصہ ہےوہاں حکومت ان نوجوانوں کو مناسب طور پہ اثاثے کے طور پر استعمال نہیں کر پا رہی۔[36]

لاقانونیت

لاقانونیت نے نسل نو کو بری طرح ناکام کیا ہے لقانونیت جہاں غربت بے روزگاری کی وجہ سے پھیلتی ہے تو دوسری طرف تعلیم کی بے مقصدیت کی وجہ سے بھی اس لاقانونیت نے اپنے منہوس جال میں پاکستانی نوجوانوں کو پھنسایا ہوا ہے جیسے شاہرخ جتوئی کیس 2012 جبکہ 18 اکتوبر 2022 کو رہا کر دیا گیا۔[37]

مصطفی امیر قتل کیس چھ جنوری 2025 کو لاپتا ہوا اور 14 فروری کو اس کی جلی ہوئی لاش ملی۔[38]

لا قانونیت عدم برداشت کا دوسرا نام ہے ہمارے ہاں دم برداشت کا کلچر سب سے زیادہ سائنس دانوں نے ہی پیدا کیا ہے وہ ایک دوسرے کے خلاف جنگ و جدل نفرت کے دار کشی اور وہ سب کچھ کرتے ہیں جو عدم برداشت کو بڑھاتا ہے۔

عملی رکاوٹیں اور عالمی معیار: بین الاقوامی قانون (CRC آرٹیکل 4) کے تحت ریاست پابند ہیں  کہ وہ بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام

ضروری انتظامی اور قانون سازی کے اقدامات کریں۔ لہذاپاکستان میں چائلڈ لیبر اور حقوق کی خلاف ورزیوں کی بنیادی وجہ سماجی و اقتصادی حالات اور ان قوانین پر عملدرآمد کی کمزور گرفت کے سوا اور کیا ہے ۔

نگران اداروں کا کردار: وفاقی محتسب کے ماتحت دفترِ شکایات کمشنر برائے اطفال (OGCC) کا قیام دراصل اسی بین الاقوامی تقاضے کو پورا کرنے کی ایک کوشش ہے تاکہ حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھی جا سکے اور ریاست اپنی عالمی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکے۔

مشہور قانون دان ضیا احمد اعوان (بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم کارکن ہیں) کا کہنا ہے کہ مسئلہ قوانین کے فقدان کا نہیں ہے  بلکہ پہلے سے موجود قوانین کے نفاذ کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔اگرچہ ہمارے ہاں (پاکستان میں) قوانین کی کتابوں میں بہت بہترین قوانین موجود ہیں اگر ان پر ہی عمل درآمد شروع ہو جائے تو پھر پاکستان ایک مختلف پاکستان ہو گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ قوانین بہت بن رہے ہیں اور بہت اچھے بن رہے ہیں جو خوش آئند ہے لیکن چیک اینڈ بیلنس کا کوئی طریقہ ایسا نہیں ہے کہ کوئی صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلییا سینیٹیہ دیکھے کہ ان پر عمل درآمد کیوں نہیں ہورہااور اس راہ میں مشکلات کیا کیا ہیں؟[39]

سیرت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی روشنی میں نسل نو کی کردار سازی:

کردار سازی اور اس کے اصول انسان کی شخصیت کو سنوارنے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ اچھا کردار سچائی، امانت داری، عدل، صبر اور احترامِ انسانیت جیسے اصولوں پر قائم ہوتا ہے۔ جو فرد اپنے قول و فعل میںیکسانیت رکھتا ہے اور اخلاقی اقدار کو اپناتا ہے وہ نہ صرف اپنی ذات کو بہتر بناتا ہے بلکہ معاشرے کی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مضبوط کردار ہی فرد کو کامیاب اور باوقار زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔

نبی کریمﷺ کے زیر سایہ جو شخصیت پنپی ہے اور منظر عام پر آئی ہیں کہ زندگی کی پیشانی ان کے نور سے یوم آخر تک جگمگاتی رہے گی نبی کے تربیت یافتہ افراد کے کردار نے زنا کا جرم سرزد ہو جانے پر بھی اقرار جرم کر کے اپنے آپ کو پیش کیا اور اسلامی عدالت سے با اسرار اپنے لیے انتہائی سنگین سزا قبول کی تاکہ وہ خدا کے حضور میں پاک و صاف ہو کے پیش کر ہو سکیں نبی کریمﷺ کی تربیت سے جو افراد نکلے ہیں وہ یہ نہیں ہیں کہ وہ معصوم  الخطا تھے اور ان سے کوئی غلطی نہیں ہو جاتی تھی اور نہ ہی کبھی قران نے نہ سیرت نے اس کو ایسا پیش کیا بلکہ وہ اپنی مجموعی ساخت کے اعتبار سے پاکیزہ ہوتے تھے اور ان میں قبول اصلاح کی قوت استعداد نشونما کی صلاحیت بہت تھی وہ بحیثیت ایک کل کے جاہلانہ کردار سے مکمل طور پہ فائق اور افضل تھے اور برابر پیش قدمی کرتے رہے تھے ۔[40]

تربیت کے سنہرے اصول –سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

اللہ پاک نے قرآن میں فرمایا ہے کہ :’’درحقیقت اہل ایمان پہ تو اللہ نے بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایسا پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات انہیں سناتا ہے ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ سری گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘[41]اس آیت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے صاف طور پہ یہ بات امت مسلمہ کو سمجھا دی ہے کہ زندگی گزارنے کے طریقے، دنیا میں کامیابی کا طریقہ، دنیا میں کردار سازی نمونہ سازی کس بنیاد پہ ہونی ہے  اور نبی پاک ﷺ کی سیرت میں ہی وہ مکمل نمونہ موجود ہے نبی کریمﷺ نے اپنے اصحاب کو مختلف طریقے سے یہ تربیت دی کہ وہ کس طرح معاشرے کے بہترین فرد بن سکتے ہیں۔نبی پاک ﷺ نے ایک نئے معاشرے کی بنیاد رکھی لیکن اس معاشرے کا پاکیزہ طریقہ ان تعلیمات ان اخلاقیات پرتھا جو نبی کریمﷺ کی صحبت اور ہم نشینی کی بدولت یہ   بابرکت ہستیاں بہرا بھر ہوئی نبی پاک ﷺ ہمیشہ اپنے صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت ان کے اعلیٰ اخلاق اور تزکیہ نفس کی ترغیب میں مسلسل کوشاں رہتے تھے اور انہیں محبت بھائی چارگی شرف عبادت اطاعت کے آداب برابر سکھاتے رہتے اور بتاتے رہتے اس سے ان کوششوں کے بدولت نبیﷺ مدینے کے اندر ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے میں کامیاب ہو گئے جو تاریخ کا سب سے زیادہخوبصورت ترقی یافتہ پاکیزہ اور بھرپور معاشرہ تھا اس معاشرے کے مسائل کا ایسا خوشگوار حل نکالا کہ انسانیت ایک طویل عرصے تک کہ جہل سے تاریکیوں سے پہلی بار نکل کر چین کا سانس لیا اس معاشرے کے جو اجزاء تھے اس معاشرے کی اجزائے  ترکیبی تھی وہ ایسی بلند و بالا تعلیمات کے ذریعے مکمل ہوئی جس نے پوری پابندی کے ساتھ زمانے کے ہر جھٹکے کا مقابلہ کر کے اس کا رخ پھیر دیا رہا نہ  ڈر نہ بیڑے کو موج بلا کا ادھر سے ادھر پھر گیا رخ ہوا کا اور تاریخ کا دھارا بدل دیا۔[42]

نبی کریمﷺ نے دنیا کی سب سے خوبصورت معاشرے کے افراد کی تربیت کے لیے سب سے خوبصورت طریقہ اختیار کیا جو کہ درج ذیل ہیں:

نفسیاتی اور جذباتی پہلو:

نبی کریمﷺ نے فرمایا لوگوں کے ساتھ ان کے مرتبے کے لحاظ سے پیش آؤ نبی کریمﷺ نے  جن صاحب کی تربیت کرتے آپ ان کے حالات و کوائف اور ان کی ذہنی و جسمانی طاقت ان کے مزاج ان کی صلاحیت کو ملحوظ رکھتےیہ حدیث میں ہے کہ ایک شخص آتا ہے وہ سب سے افضل عمل کے بارے میں پوچھتا ہے آپ اسے جواب دیتے ہیں کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے دوسرا شخص آتا ہے اور یہی سوال کرتا  ہے تو آپ اسے جواب دیتے ہیں کہ نماز سب سے افضل عمل ہے تیسرے شخص کو آپ بتاتے ہیں کہ حسن اخلاق سب سے بہتر عمل ہے بظاہر ہم دیکھیں تو ہمیںاقوال میں تضاد نظر آتا ہے مگر حقیقت میںیہ جواب مخاطب کے ذہن اور نفسیات کو سامنے رکھ کر دیے گئے ہیں کیونکہ ایک شخص جو کہ نماز روزے کی بڑی پابندی کرتا ہو نوافل بھی پڑھتا ہو مگر جہاد کی طبیعت کی طرف مائل نہ ہو تو افضل عمل اس کے لیے جہاد ہی ہے دوسرا جو بہت نیکیاں کرتا ہو مگر نماز سے غفلت برتتا ہو تو اس کے لیے افضل عبادت نماز ہی ہے۔[43]

ایک دوسری روایت ہے جس میں نبی کریمﷺ نے سے ایک صحابی نے جہاد میں شرکت کی اجازت چاہی آپ نے ان سے پوچھا کہ کیا تمہارے والدین میں سے کوئی زندہ ہیں اس نے کہا میری بوڑھی ماں زندہ ہے آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اپنی ماں کی خدمت کرو اس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے ۔[44]

جذبات و احساسات کا پاس و لحاظ:

جذبات و احساس کی تعمیر اور اس کو صحیح رخ پر پروان چڑھانا ہی دراصل تربیت کا دوسرا نام ہے ۔

نبی کریمﷺ اپنے مخاطبین صحابہ کرام نوجوانوں کے مزاج اور نفسیات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ان کے جذبات کا بھی پورا خیال رکھتے تھے غزوہ حنین میں جو مال ملا اس کو آپ ﷺ نے قبائل عرب میں تقسیم کر دیا تاکہ اسلام کے تئیں ان کے دل بستگی کا سامان ہو اس موقع پر انصار کو کوئیعطیہ نہ  دیا اور تمام مال دوسرے قبائل میں تقسیم کر دیے انسان نے جب یہ دیکھا تو بشری تقاضوں کے تحت ان میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے اور طرح طرح کی چہ مگوئیاں ہونے لگیں انہوں نے کہا مصیبت کے وقت تو ہم نے ساتھ دیا اب جب مال کی تقسیم کا وقت آیا تو آپ ﷺ نے ہمیں نظر انداز کر کے سارا مال اپنی قوم میں تقسیم کر دیا ان انصار کے معزز ترین فرد حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ تعالی عنہ کے علم میں جب یہ بات آئی تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ انصار کا قبیلہ مال کی تقسیم کے سلسلے میں اس وجہ سے ناراض ہے کہ آپ ﷺ نے پورا مال اپنی قوم میں تقسیم کر دیا ہے اور عرب کے وہ بڑے بڑے  عطیات  عطا کیے ہیں مگر انصار کے حصے میں کچھ نہیں آیا آپ ﷺ نے پوچھا سعد بن عبادہ اس سلسلے میں تمہاری کیا رائے ہے انہوں نے عرض کیا اے رسول اللہ ﷺ میں بھی انصار کا فرد ہوں آپ ﷺ نے سعد بن عبادہ سے کہا اچھا تمام انصار کو اس احاطہ میں جمع کرو میں ان سے گفتگو کروں گا پھر نبی کریمﷺ نے وہ گفتگو کی جس کے آخر میں تمام انصار یک زباں ہو کر کے کہنے لگے کہ ہم رسول اللہ کی تقسیم سے خوش ہیں اللہ کے نبی کریمﷺ نے انصار کو مخاطب ہو کے فرمایا تھا کہ انصار میرے قریب ترین ہیں دوسرے لوگ ان کے بعد اے اللہ! انصار پر رحم فرما ان کے بیٹوں بیٹیوں کی اولاد پر رحم فرما۔ دیکھیں کس طرح نبی کریمﷺ نے انصار کے جذبات و احساسات کو الفاظ دے کر کے وہ کشیدگی والے ماحول کو اتنے محبت والے ماحول میں تبدیل کر دیا۔[45]

شفقت اور نرمی:

قرآن پاک کی سورۃ آل عمران میں   اللہ پاک فرماتے ہیں کہ:’’ اے پیغمبریہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان کے لیے نرم مزاج واقع ہوئے ہو ورنہ اگر تم ہو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے گرد و پیش سے چھٹ جاتے ۔‘‘[46]رسول خدا ﷺ نے اپنی پوری زندگی اس بات کی گواہی دی ہے آپ ﷺ صرف دو موقعوں پہ سختی کا اظہار کرتے تھے ایک جنگ کے موقع پہ اور دوسرے مجرموں پر شرعی حدود نافذ کرتے ہوئے ورنہ آپ کی تربیت دعوت و تبلیغ اصلاح کے سلسلے میں نبی پاک ﷺ ہمیشہ نرمی آسانی محبت اور الفت اختیار فرماتے اور اس بات کی کوشش کرتے کہ اسلام پہ عمل کرنا تمام لوگوں کے لیے آسان ہو جائے آپ ﷺ ہمیشہ وہی کام کرنے کی ہدایت کرتے جس میں لوگوں کی سکت ہوتی نبی کریمﷺ نے فرمایا جس چیز میں نرمی بڑھتی جاتی ہے تو نرمی سے خوبصورت بنا دیتی ہے اور جس چیز میں سختی برتی جاتی تو سختی سے عیب دار بنا دیتی ہے۔[47]

ایک بار ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کر دیا لوگ اس کو روکنے کے لیے اس کی طرف بڑھنے لگے آپ ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور ایک ڈول پانی لا کر بہا دو تو میں آسانی پیدا کرنے کے لیے برپا کیا گیا ہے سختی کے لیے نہیں۔[48]

ایک دفعہ ایک صحابی اپنے بچپن کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں وہ درختوں پہ سے کھجور توڑ کے کھاتے تھے نبی کریمﷺ کو جب اس واقعہ کا پتہ چلا تو انہوں نے ان سے کہا کہ گرے ہوئے کھجور کھا لیا کرو درختوں کے کھجور نہ توڑا کرو اور ان کے سر پہ ہاتھ پھیر کر کہا اللہ اس کا پیٹ بھر دے۔[49] ایک دوسرا واقعہ ہے جس میں نبی کریمﷺ نے بہت محبت کے ساتھ ایک نوجوان سے زنا کی بری عادت چھڑائی ایک نوجوان نے زنا کی اجازت مانگی رسول پاک ﷺ نے نہ اسے ڈانٹا نہ جھڑکا نا حقیر سمجھا بلکہ محبت سے سمجھایایہاں تک کہ وہ نوجوان کہنے لگا اب میری نظر میں زنا سے زیادہ کوئی گناہ پسندیدہ نہیں ہے۔[50]

یہ نفسیاتی اور جذباتی پہلو یہ شفقت اور نرمی کا طریقہ ہمارے مسجد اور محراب ہر جگہ کے لیے بے انتہا ضروری ہے سوچیں اگر یہ چند تربیتی پہلو ہمارے کردار کا حصہ بن جائیں تو ہمارے نوجوان تربیت کے لیے کہیں اور نہ بھٹکے گناہ کرنے والے بہت آسانی سے نیکی کی طرف مائل ہو جائیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیرت کے تاریخی واقعات کے طور پر نہ لیں بلکہ سیرت کو اپنے کردار سازی کا لازمی جز بنا ئے۔

علمی و فکری آبیاری سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں :

جدید ڈیجیٹل دور میں نسل نو کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے نسل نو کو ذہنی و فکری تربیت دی جائے تا کہ وہ جدید دور کے فتنوں سے اپنے آپ سے بچا سکیں نبی مہربان ﷺ نے کردار سازی کے حوالے سے سب سے پہلا جو اصول دیا وہ یہ فرمایا کہ “اپنی اولاد کی عزت کرو اور انہیں اچھے اداب سکھاو۔[51]

نبی کریمﷺ نے مدینے پہنچتے ہی جس پہلے ادارے کا قیام کیا وہ ہے مسجد نبوی اور اس کے ساتھ متصل چبوترا جسے سب صفہ کا چبوترہ کہلاتا ہے مسجد صرف ادائے نماز کے لیے نہ تھی بلکہ یہ یونیورسٹی تھی جس میں مسلمان اسلامی تعلیمات و ہدایت کا درس حاصل کرتے یعنی ایک مرکز تھا جہاں سے اس نئی ریاست کا نظم و نقص سنبھالا جاتا وفود آتے وفود بھیجے جاتے ملاقاتیں کی جاتی اور صفہ کے چبوترے میں علم و فضل کے موتی بکھیرے جاتے مسجد نبوی کے چبوترے صفہ پر مقیم غریب صحابہ کا ایک گروہ تھا جو جن کا بنیادی کردار قران و حدیث کی تعلیم حاصل کرنا ذکر و عبادت میں وقت گزارنا اور اسلام کی دعوت و تبلیغ تھا نبی کریمﷺ نے مختلف قبائل کا قرآن و سنت کو پہنچانے اور نو مسلموں کو دین کی تعلیم دینے کی ذمہ داری سونپی تھی جبکہ وہ غزوات میں بھی بھرپور شریک ہوتے۔ آپ ﷺ خود ان کی خبرگیری فرماتے ہیں انہیں کھانا کھلاتے اور مہمان کے مانند پیش آتے جن سے یہ تعلیم گاہ خانقاہ و تبلیغ کا مرکز بن گیا نبی کریمﷺ کے اس سیرت سے ہمیں تعلیم کی کتنی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ نوجوانوں کو بہترین مصروفیت عطا کی ان کے وقت کو بہترین کام میں لگایا۔[52] افسوس کا مقام ہے کہ آج ہم نے اس عظیم ترین سنت کو ختم کر دیا ہے آج کل کی صورتحال تو یہ ہے کہ مسجد  رمضان کی راتوں میں نوجوان کرکٹ میں اور دیگر مشاغل میں اپنا وقت صرف کرتے ہیں ہمارے مسجد کے محراب ۔والدین معاشرے کے لوگ ہمارے بزرگ ہمارے دینی لوگو ان نوجوان نسل کو  ضائع ہوتے ہوئے ان کے قیمتی وقت کو  برف کی طرح پگھلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں مگر کوئی خبر نہیں لے رہے ہمارے نوجوان بے مقصد زندگی گزار رہے ہیں ہم ایک ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جو ان نوجوانوں کو مقصدیت کی طرف لے کر اے اور معاشرے کے لیے مفید ثابت ہوں۔

عہدِ شباب—ذمہ داری اور مواقع کا امتزاج:

اسلامی تعلیمات اور احادیثِ نبویﷺ کی روشنی میں جوانی انسانی زندگی کا وہ سنہرا اور توانا ترین دور ہے جو قوت، صلاحیت اور جوشِ عمل سے عبارت ہے۔ یہ عمر محض ایک زمانی وقفہ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ایک ایسی قیمتی نعمت ہے جس کے صحیح استعمال پر ابدی کامیابی اور غفلت پر عمر بھر کا پچھتاوا مقدر بنتا ہے۔[53]

حضرت لقمان علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو  آٹھ باتوں کی نصیحتیں کیں: توحید کی تعلیم اللہ کی ذات باریک بھی اور خبیر ہے،والدین کے احترام اور ادب کی تلقین کے ساتھ بہت ہی اصولی بات بتائی کہ پیروی حق کی کرنی ہے، نماز قائم کرنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینا، مصائب پہ صبر، کبر و غرور سے اجتناب اور رفتار و آواز میں اعتدال (انسان بے ادبی اور بد اخلاقی کی لعنت سے دور ہو جاتا ہے کیونکہیہ انسان کو انسانیت سے گرا دیتی ہے)۔ آپ دیکھیں کس قدر جامع نصیحت ایک نوجوان کو ہو سکتی ہے ۔یہ اللہ رب العالمین نے حضرت لقمان کی زبانی ہم تک پہنچا دیا ہے۔[54]

حضرت ابن مسعودؓ سے مروی حدیثِ مبارکہ اس عہد کی اہمیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے، جس کے مطابق روزِ قیامت انسان سے پانچ بنیادی سوالات کیے جائیں گے اور انسان کے قدم اپنی جگہ سے ہٹ نہ سکیں گے یہاں تک کہ ان سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے عمر کن کاموں میں گوائی جوانی کی توانائی کہاں صرف کی مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا جو علم حاصل کیا اس پہ کہاں تک عمل کیا۔ ان میں سے اکثر کا براہِ راست تعلق جوانی سے ہے۔[55]

وقت کا صرفہ: پوری زندگی اور بالخصوص جوانی کی توانائیوں کا استعمال کہاں ہوا؟

معاشی جدوجہد: رزق کے حصول اور خرچ میں حلال و حرام کی تمیز۔

علم و عمل: جو علم حاصل کیا، اس کو عمل کے سانچے میں کتنا ڈھالا؟

نوجوانی کا یہی وہ دور ہے جب انسان ذہنی و جسمانی طور پر عروج پر ہوتا ہے۔ یہی وقت علمی پیاس بجھانے، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور مستقبل کی مضبوط بنیاد رکھنے کا ہے قرآن کریم نے بھی جوانی کی عمر کو قوت سے تعبیر کیا ہے اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے:’’اللہ تعالی وہ ہے جس نے تمہیں کمزوری کی حالت میں پیدا کیا پھر اس کمزوری کے بعد قوت دی پھر اس قوت کے بعد کمزوری اور بڑھاپا دیا وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور وہ خوب علم و قدرت رکھنے والا ہے۔[56]

مختصر یہ کہ جوانی ایک امانت ہے، جس کا حقِ ادا کرنا ہی دنیا و آخرت میں سرخروئی کی ضمانت ہے۔جوانی کے اس عہد کوعلامہ اقبال نے ایک ایسی ’’کاری ضرب‘‘قرار دیا ہے جو اگر بے داغ ہو تو تاریخ بدل دیتی ہے۔

؎شباب جس کا ہو بے داغ ضرب ہے کاری[57]

صحابہ کرامؓ کی جرت: حضرت اسامہ بن زیدؓ کی قیادت، حضرت خالد بن ولیدؓ کی عسکری مہارت (سیف اللہ)[58] اور حضرت علیؓ و دیگر نوجوان صحابہ کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونا [59]اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام کی بنیادوں میں نوجوانوں کا خون اور عزم شامل ہے۔

علمی و فکری انقلاب: امام غزالی، شاہ ولی اللہ اور ابن تیمیہ جیسے اکابرین نے اسی عمر میں علم کی گہرائیوں کو پایا، جبکہ مولانا آزاد اور سید مودودی نے اپنی جوانی میں ہی صحافت اور ’’الجہاد فی الاسلام‘‘ جیسی تصانیف کے ذریعے فکری جمود کو توڑا۔[60]

فاتحینِ اسلام: محمد بن قاسم، طارق بن زیاد اور صلاح الدین ایوبی جیسے غازیوں نے اپنی جوانی کو امتِ مسلمہ کی سربلندی اور فتوحات کے لیے وقف کیا۔

دعوتی مشن: حسن البنا شہید نے نوجوانی میں ہی مصر جیسی سرزمین پر دعوتِ دین کا علم بلند کیا۔

یعنی جوانی صرف خواب دیکھنے کی نہیں بلکہ علمی پیاس بجھانے، بڑے معرکے سر کرنے اور تاریخ رقم کرنے کی عمر ہے۔ اگر ایک نوجوان اپنے کردار کو ’بے داغ‘ رکھے، تو وہ دنیا میں ایک ناقابلِ تسخیر قوت بن سکتا ہے۔

حضرت عمر بن میمونؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو—

جوانی کو بڑھاپے سے پہلے

صحت کو بیماری سے پہلے

خوشحالی کو غربت سے پہلے

فراغت کو مشغولیت سے پہلے

زندگی کو موت سے پہلے

(ترمذی)[61]

یہ نصیحت ہمیں سکھاتی ہے کہ موجودہ نعمتوں کا فوری استعمال کرو، کیونکہ بڑے کارنامے یہی وقت میں ممکن ہیں۔

نسل نو کی فکری تعمیر میں روحانی کردار سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

تزکیہ نفس اور کردار سازی :

انسان روح اور جسم کا مجمع ہے روحانی بالیدگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان کے نفس کا تزکیہ کیا جائے جس کے لیے نبی کریمﷺ نے بہت بہترین انداز میں صحابہ کرام خصوصا نوجوانوں کا تزکیہ نفس کیا تاکہ عملی تربیت کے ذریعے کردار سازی کی جا سکے۔

  اللہ تبارک و تعالی نے تمام انبیاء کرام کو بھی نفس کی تزکیے کی تلقین کی کہ وہ اپنی تبلیغ کی اسے اساس بنائے۔[62]

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے لیے پہلی دعا جس میں تزکیہ کے فرض کو ادا کرنے کا بھی خصوصی ذکر ہے ۔

 قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہے کہ ’’اے  ہمارے رب ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایسا رسول اٹھائیو جو تیری انہیں آیات سنائے ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے تو بڑا مقتدر اور حکیم ہے‘‘۔[63]

 آپ ﷺ نے روزے کو نماز کو رات کی عبادت  اور اخلاقی پاکیزگی کو بہت زور دیا تاکہ نوجوان با ہمت بنے پاک دامن رہے اور اللہ کے نیک بندے بن کر رہیں۔

رات کی عبادت کی تربیت:

 حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے نوجوانوں کو حکم دیا کہ رات کو مسجد مساجد میں عبادت کریں جو جہنم سے بچاؤ کا سبب بنتی تلقین سے عبداللہ بن عمر نے رات کا سونا کم کیا اور عبادت میں مشغول ہوئے جو نوجوانوں کو حوصلہ مند بناتی ہے یہ عمل روحانی بالیدگی کے لیے اور کے لیے بہت اہم ہے روحانی خلا کو پر کرتا ہے اور کردار کو مضبوط کرتا ہے ۔نبی کریمﷺ نے جوانی کی عبادت کی اہمیت کو اس طرح سمجھایا کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا سات طرح کے آدمی ہوں گے جن کو اللہ تعالی اس دن اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا جس دن اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا ان خوش نصیبوں میں ایک وہ نوجوان بھی ہوگا جو رب کی عبادت میں جوانی کی امنگ میں مصروف رہا۔[64]

اسی طرح کی ایک اور حدیث ہے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ کی زندگی میں جب کوئی خواب دیکھتا تھا تو آپ ﷺ اس کی تعبیر کرتے تھے میری دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ میں بھی کوئی خواب دیکھوں تو  میں ا  بھی جوان ہی تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ کہ دوزخ پر کنویں کی طرح بندش ہے میں کہنے لگا دوزخ سے اللہ کی پناہ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم کوئی فرشتہ ملا اس نے مجھ سے کہا ڈروں نہیں یہ خواب میں نے اپنی بہن ام المومنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہا کو سنایا انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو سنایا تعبیر میں آپ ﷺ نے فرمایا عبداللہ بہت خوب لڑکا ہے کاش رات میں نماز پڑھتا راوی کہتے ہیں اس فرمان کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رات کو بہت کم سوتے تھے۔[65]

اور قربان جائیے نبی پاک ﷺ پہ کہ تبلیغ و کردار سازی کا انداز کیا خوب تھا کہ نصیحتیوں کی جاتی کہ عمل کا حصہ بن جائے اور نصیحت خوشخبری کے ساتھ کی جاتی محبت کے ساتھ کی جاتی تربیت کے اس نقطے کو parenting teachers training میں شامل کر کے دیکھیں کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے نوجوان لبیک  نہ کہیں۔

نسل نو کو درپیش عصری فکری اور سماجی چیلنجز کا تحفظ   –   سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں :

دور حاضر میں نوجوان نسل نے جہاں ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے ذریعے کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں وہاں اسی ٹیکنالوجی  اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال  کرنے کی وجہ سے ذہنی اور فکری تربیت پر شدید ضرب لگا ہے جس سے معاشرتی اخلاقی و نفسیاتی مسائل پیدا ہو رہے ہیں اس کے ہی نتیجے میں نیند کی کمی ڈپریشن اور ذہنی فرسٹریشن بھی بڑھ رہی ہے نوجوان حقیقی رشتوں اور محنت کے بجائے شارٹ کٹ سے دولت کمانے کی جنون میں مبتلا ہو چکے ہیں خیالی دنیا میں مگن ہو گئے ہیں بدتمیزی اور کردار کشی جیسے کلچر کو بھی فروخت پایا ہے اس کے ساتھ ساتھ جان لیوا گیمز انٹرنیٹ میں مبنی نادان دوستیاں خاندانی تباہی کا باعث بن رہی ہیں۔نیٹ پہ وقت گزاری کے رجحان نے نوجوانوں کو بھی کو تعلیم سے بھی دور رکھا ہے اور فکری پستی دین سے دوری اور تربیت کی کمی کا بھی شکار ہوئے ہیں جو کہ اج کل کے ڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل کی تعلیمی اور تربیتی چیلنج بن چکا ہے اس سے بڑا مسئلہ نوجوان نسل کی شناخت کا ہے اسلامی شناخت کو ختم کیا جا رہا ہے سائنسی ترقی تو کرے لیکن لادینیت کے جال میں نہ پھنسے۔[66]

 ان چیلنجز کے تحفظ کے لیے ہمارے پاس بہت خوبصورت قرآن اور نبی پاک ﷺ کی سیرت میں موجود ہے ۔

 قرآن کریم نے سوشل میڈیا کے اس دور کے لیے سنہری اصول دیا ہے اللہ پاک فرماتے ہیں کہ اے ایمان والوں اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو۔[67]

نبی کریمﷺ فرماتے ہیں کہ حیا ایمان کا ایک خاص حصہ ہے ۔[68]

انٹرٹینمنٹ کو لبرل معاشرے نے زندگی کا مقصد بیان کر دیا ہے جبکہ اسلام میں وقت قیمتی امانت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انسان کے اسلام کی خوبییہ ہے کہ وہ فضول اور بے مقصد کاموں کو چھوڑ دے ۔[69]

اللہ کے نبی کریمﷺ نے فرمایا اور برے ہم نشین سے بچو کہ تم اس کے ساتھ پہچانے جاؤ گے۔[70]

دہشت گردی کا خاتمہ قران اور سیرت کی روشنی میں

 اسلام دہشت گردی کی مکمل نفی کرتا ہے اسلامی تعلیمات انتہا پسندی جو کہ اپنے ساتھ دہشت گردی کو بھی لے کے اتا ہے اس کی مکمل ممانعت کرتا ہے [71]القرآن جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم لوگ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا کہ ایسے ہی لوگ تو فسادی ہیں لیکن شعور نہیں رکھتے ۔

 حدیث مبارکہ ہے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جو اپنے ہاتھ اور زبان سے دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے ۔[72]

مذہبی انتہا پسندی:

مذہبی انتہا پسندی کی تاریخ بعثت نبوی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے پہلے کی ہے جیسے یہود نے حضرت عزیر علیہ السلام کو اور نصاری نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیا ۔[73]

جبکہ قران میں اللہ نے فرمایا بے شک اللہ تعالی اعتدال کا حکم دیتا ہے۔[74]

حدیث مبارکہ ہے کہ اور تم دین میں انتہا پسندی سے بچنا کیونکہ تم سے قبل کی امتیں دین میں غلو یعنی انتہا پسندی اختیار کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئیں ۔[75]

علامہ اقبال کا فلسفہ خودی آج کل کے ڈیجیٹل دور میں نوجوانوں کے لیے ایک بہترین مشعل راہ ہے اقبال کا پیغام ہے کہ ٹیکنالوجی اور جدید الات کو اپنی پرواز کا ذریعہ  بنائیں نہ کہ ان کی غلام بن جائیں۔علامہ اقبال کے نزدیک نوجوان شاہین ہیں جس کا کام آسمانوں کی وسعتوں میں اپنی جگہ بنانا ہے ڈیجیٹل میڈیا پر اس وقت موجود بصری مواد انسانی ذہن کو پراگندہ کر سکتے ہیں اقبال اس بارے میں کہتے ہیں:

خیرا نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ

سرمہ ہے میری انکھ کا خاک مدینہ و نجف[76]

اسی طرح نقالی سے بچنے اور اپنی فکر کی ازادی کے لیے اقبال کہتے ہیں کہ

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی

اگر میرا نہیں بنتا تو نہ بن اپنا تو بن  [77]

 وقت کی قدر اور فضول مشغلے کے حوالے سے اقبال فرماتے ہیں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پہ

تو شاہی ہیں بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر[78]

الحمدللہ قران سیرت اور ہمارے اکابرین نے اس کا بڑا حل پیش کیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم نوجوانوں میں وہ شعور پیدا کیا جائے کہ وہ مغربی افکار کا تنقیدی جائزہ لیں اور ان کی فکری ازادی کی بنیاد صرف اور صرف اتباع رسول ﷺ میں مضمر ہے۔

معاشی تعمیر میں نسل نو کا کردار – سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

معاش رزق تلاش کرنے اور اس کے حصول میں دوڑ دھوپ کرنے کا نام ہے ۔[79]

اللہ تبارک و تعالیٰ قرآن میں ارشاد فرماتے ہیں: اور بے شک ہم نے تم کو زمین میں ٹھکانہ دیا اور اس میں تمہاری زندگی کا سامان رکھا مگر تم لوگ کم

ہی شکر کرتے ہو۔[80]

نبی کریمﷺ نے فرمایا تین  چیزوں میں تمام مسلمان شریک ہیں گھاس ،پانی اور آگ میں۔[81]

اللہ پاک قرآن میں فرماتے ہیں کہ پس جب نماز پوری ہو جائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل یعنی رزق تلاش کرو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرو شاید تم کامیاب ہو جاؤ۔[82]

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ سول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بہترین کمائی وہ ہے جو محنت کش اپنے ہاتھ سے کماتا ہے بشرط یہ کہ وہ خیر خواہ ہو ۔[83]

معاشی میدان میں نسل نو کو معاشی ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے نہ صرف ابھارا گیا ہے بلکہ اخلاقی اقدار کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کے معاشی تعمیر میں کن اصولوں کو ملحوظ رکھنا چاہیے جن میں تقوی ، احسان،ایثار ،عدل،اخوت،تعاون،توکل،قناعت اور مساوات اہم ہیں اللہ رب العزت نے فرمایا ہے بے جا خرچ نہ کرو ۔[84]

پھر فرمایا کھاو پیو اور حد سے آگے نہ بڑھو بے شک حد سے بڑھنے والے اللہ کو پسند نہیں ۔[85]

سماجی و معاشرتی تعمیر —سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

اولاد کے درمیان عدل:’’نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالی عنہ کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ میرے والد نے رسول پاک ﷺ کے سامنے مجھے ایک غلام جن کے پاس تھا اس کا تحفہ دیا رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا کیا تم نے اپنے تمام لڑکوں کو غلام عطا کیے ہیں میرے والد نے کہا نہیں اس پہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور اولاد کے سلسلے میں عدل و انصاف اختیار کرو۔ [86]

 غور طلب بات ہے کہ جس معاشرے میں اولاد سے انصاف شروع ہو تو وہاں کے معاشرے کے عام افراد میں وہ عدل و انصاف کتنا رواج پائے گا۔

بچوں کے حقوق اور شفقت:’’وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے۔‘‘[87]

تعلیم کا حق:’’طلب علم ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے۔‘‘[88] ( غزوہ بدر کے قیدیوں سے نوجوانوں کو علم دلوایا ریاست قائم ہوتے ہی پہلا کام صفہ کا چبوترا بنایا جہاں علم لینے اور دینے کا ایک مسلسل سلسلہ جاری ہو گیا)

یتیم کی کفالت:’’ نبی محترم ﷺ نے فرمایامیں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے (آپ ﷺ نے اپنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔‘‘[89]

نبی کریمﷺ نے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیت بیدار کرنے کے لیے پیدا کرنے کے لیے آپ ﷺ نوجوان اور کم عمر صحابہ کو بڑی ذمہ داریاں سونپتے تھے جیسے اسامہ بن زید کے قیادت رسول پاک ﷺ نے غزوہ تبوک کے بعد 11 ہجری میں رومیوں کے خلاف لشکر اسامہ بن زید کو بھیجا حالانکہ اسامہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر محض 18 سے 20 سال تھی اپ ﷺ نے انہیں سپہ سالار مقرر کیا جبکہ ان کے والد زید بن حارثہ شہید ہو چکے تھے اور لشکر میں ابوبکر عمر جیسے بزرگ صحابہ شامل تھے یہ تقرر اپ ﷺ کے صحابہ پر اعتماد کا واضح ثبوت ہے ۔

زید بن حارثہ کا تقرر غزوہ موتم میں آپ ﷺ کے غلام ازاد کرتا زید بن حارثہ کو لشکر کا امیر بنایا حالانکہ وہ قریش کے غرور کو توڑنے کے لیےیہ انتخاب کیا گیا تھا زید کی شہادت پہ جعفر اور عبداللہ بن راوا پھر خالد بن ولید کو قیادت دی گئی جو صحابہ کی اعتماد دکھاتا ہے نعیم بن مسعود کی ذمہ داری غزوہ خندق میں اپ ﷺ نے نوجوان نعیم بن مسعود کو یہودی قبائل میں پھوٹ ڈالنے کی ذمہ داری سوپی جو کامیاب رہی اور دشمن کو کمزور کر دی۔

اسی تربیت کا نتیجہ تھا کہ تاریخ اسلام میں نے دیکھا کہ مسلمان نوجوانوں نے کتنی انقلابی اقدامات کیے ہیں اور انقلابی نوجوانوں کی فہرست تیار ہے جنگ بدر میں ابوجہل جیسے عظیم دشمن اسلام کا خاتمہ دو نوخیز جوانوں معاز وہ مابض نے انجام دیا اس طرح بدر میں شامل ہونے کے لیے نوجوانوں نے اپنی اپنی مقابلہ آرائی کی انگوٹھوں کے بل کھڑے ہو کر اپنی صلاحیت کے جوہر دکھائے نوخیز نوجوان صحابہ لشکر کا حصہ بنے جن میں ایک عمیر بن ابی وقاص بھی تھے ۔

مظلوم کی مدد :

اسی طرح ایک مسلمان خاتون ہند کی صدائے ابرو سن کر 18 سالہ نوجوان محمد بن قاسم سندھ پر حملہ آوار ہوئے سلطنت رومانیہ میں ایک مسلم خاتون کی ابروزی کے خلاف ایک نوجوان معتصم باللہ نے سلطنت رومانیہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دییہ تاریخ ساز کارنامے ہیں جسے نوجوانوں نے

انجام دیا ہے لیکن کیا ہواہمارے آج کل کے نوجوانوں کو جو راتوں کی شب بیداری تو کرتے ہیں لیکن فضول کاموں میں اور مقصدیت کو کھو کر انہیں اس بات کا احساس ہی نہیں ہے کہ  امت مسلمہ کیا کھو رہی ہے اور کیا پارہی ہے اور وہ کس درجے خطرے میں ہیں انہیں نہ مستقبل کی تاریک حالت کی فکر ہے نہ شعور نہ پرواہ اسی لیے تو ملت اسلامیہ رویہ زوال ہے ۔[90]

دراصل ہمارے نوجوانوں کو ایسے مشفق لیڈر استاد والدین رشتہ داروں کی ضرورت ہے جو ان اعلیٰصفات کے ذریعے ہمارے بچوں کی تربیت کریں اور اگر یہ کام جاری ہو ساری ہو جائے تو علامہ اقبال کے مطابق

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی[91]

نبی کریمﷺ نے اپنے صحابہ کرام پر گہرا اعتماد ظاہر کیا، خاص طور پر نوجوان اور کم عمر صحابہ کو بڑی ذمہ داریاں سونپ کر۔ یہ واقعات سیرت نبوی سے واضح ہوتے ہیں جو آپ ﷺ کی قائدانہ بصیرت کو ظاہر کرتے ہیں۔

نسل نو کے تحفظ اور تعمیر کے لیے عملی اقدامات:

حکومت ، تعلیمی ادارے اور خاندانی کی ذمہ داریاں

یہ بات اظہر من شمس ہے کہ نوجوانوں کی کردار سازی صرف حکومتی پالیسیز کے تحت ممکن نہیں ہے بلکہ اس میں براہ راست تین ادارے ذمہ دار ہیں حکومتی ادارہ تعلیمی ادارہ اور خاندان کا ادارہ جب تک ان تینوں اداروں میں مشترکہ حکمت عملی نہیں ہوگی تعاون نہیں ہوگا نوجوان نسل کی کردار سازی تربیت تحفظ ناممکن ہے۔

 حکومت کا ادارہ : حکومتی پالیسیز کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ حکومتی سطح پر پالیسیز بھی ہیں اور قوانین بھی بن رہے ہیں لیکن عمل پذیری کی رفتار بہت سست ہے  ۔

تعلیمی ادارے: دنیا کی ہر قوم اپنی نسلوں کو اسی غرض کے لیے تیار کرتی ہے کہ وہ اپنے وطن تہذیب و ثقافت کی بنیادوں پہ ترقی کرے اس اس مقصد کے لیے ملک و قوم اپنے نظام میں تعلیم قائم کیا کرتی ہیں کوئی آزاد قوم ایسی نہیں جو دوسروں سے ان کا نظام تعلیم جوں کا تو لے لیتی ہو اپنی تہذیب کا کوئی رنگ شامل کیے بغیر اپنی قوم کو ڈھالتی چلی جائے جس سے نوجوانوں کی نگاہ میں اپنی قوم اور اس کا مذہب اس کی تہذیبی اس کی تعریف ہر چیز کو ذلیل و خوار کر کے رکھ دے اور ان کے دماغ پر انہی لوگوں کے تصورات اور نظریات کا ٹھپا لگا دے۔[92]

حکمت مشرق و مغرب  نے سکھایا ہے مجھے

ایک نقطہ کے غلاموں کے لیے اکسیر

دین ہو فلسفہ ہو فقر ہو سلطانی ہو

ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بنیاد پر تعمیر

صرف اس قوم کا ہے سوز عمل زار و زبوں

ہو گیا پختہ عقائد سے تشی جس کا ضمیر[93]

خاندان و والدین  کی ذمہ داری:بدلتی اقتدار کے ساتھ ساتھ ہمارے والدین نے بھی تربیت کے معیارات کو بدل ڈالا مغربی طرز حیات طرز تعلیم پر شاد و فراں ہیں اور اسی کو ترقی کا نام دیا ہوا ہے جبکہ اسلامی تعلیم و تربیت کا گہوارہ ماں کی گود ہے جہاں سے بچہ ایمان کی پختگی سیکھتا ہے

یہ تینوں ادارے اس وقت اپنا بہترین حصہ ڈال سکیں گے جب تک سیرت نبویﷺ کے یہ انمول موتی ہمارے ان اداروں کو چلانے والے افراد کی تربیت  کا حصہ نہ بن جائے۔

اخلاص: ایک بنیادی وصف ہے جس کے بغیر کوئی بھی عمل نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا حدیث مبارکہ ہے اللہ تعالی سے اس عمل کو قبول کرتا ہے جو اس کے لیے مخلصانہ طور پر کیا گیا ہو اور اس کی رضا مقصود ہو۔[94]

علم:ضروری ہے کہ ذمہ داران علم کی دولت سے مالا مال ہوں انہیں  دین اسلام کے احکام اور امر و نواہی کا اتنا علم ضرور ہو کے ہر مرحلے پر صحیح رہنمائی کر سکیں خود بر صغیر کے مسلمانوں کے دینی تعلیم کے ساتھ لازم تھا کہ علوم ریاضی، علوم ذراعت، جیومیٹری ، علوم فلکیات علوم طب اور تحقیقی و تجزیہ کا علم شامل ہوتا تھا برطانیہ کے نو ابادی جنوں نے برصغیر سے اس تعلیمی نظام کو ختم کر دیا وہ تمام کتب جو برسوں کی عرق ریزی سے بنائی گئی تھی بے سود ہو کر رہ گئی اور اب مدرسہ اور اسکول الگ کر دیا گیا ہے جس کے نقصانات ہم بھگت رہے ہیں۔[95]

صبر و تحمل:اس کے بغیر کوئی شخص ادارہ تربیت جیسے نازک فریضے کی ادائیگی نہیں کر سکتا اللہ رب العالمین فرماتے ہیں’’ اور جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔‘‘[96]

حسن گفتار:نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: نہ بہت بلند اور ناپست بلکہ درمیانی اواز نبی کریمﷺ کا طرز تکلم تھا صحابہ کرام فرماتے تھے کہ’’یہ الفاظ نہ ضرورت سے زیادہ نہ ضرورت سے کم نہ کو تاہ سخن نہ طویلگو۔‘‘[97]

حسن کردار:قول و فعل میں تضاد نہ ہو ۔اسکی  تضاد کی وجہ سے تمام کوششیں رائیگاں ہو جاتی ہیں  اوران تمام خوبیاں کی بنیاد تقوی اور خدا ترسی ہے

حکومت اور نوجوان کے درمیان کوئی رابطے کا ذریعہ نہ ہونے کی وجہ سے ایسے قواعد و ضوابط واضح کرنے میں رکاوٹ ہے جو پاکستان کے نوجوان آبادی کے حقوق و ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھ سکیں ملک میں مائینسشمولیت کے مواقع کی کمی نے نوجوان آبادی کو سیاسی و سماجی طور پر پس منظر میں دھکیل دیا ہے جس سے نوجوانوں پالیسی سازی میں ان کا کردار انتہائی محدود ہو گیا ہے۔[98]

انفرادی ذمہ داری:

بنو قابل پاکستان میں 10 لاکھ نوجوانوں کو آئی ٹی کے میدان میں تربیت کا جماعت اسلامی کا  ایک نجی منصوبہ ہے بنو قابل منصوبے کے تحت نوجوانوں کو آفس اٹومیشن، آرٹ آف گرافنگ بذریعہ مصنوعی ذہانت ،گرافک ڈیزائننگ،موشن گرافکس ،ای کامرس، ڈیجیٹل مارکیٹنگ،موبائل ایپ ڈیپولپمنٹ ،ویب سائٹ ڈیولپمنٹ ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا سائنس مصنوعی، ذہانت جیسے کورسز شامل ہیںیہ پرائیویٹ سیکٹر کی طرف سے ایک اہم پیش رفت ہے نوجوان نسل کی تعمیر و کردار کے لیے حکومت پرائیویٹ سیکٹرز کے ساتھ مل کر کے بہترین انداز میں نوجوان نسل کی بہتری کے لیے اور اس طرح کے کئی پروجیکٹس معاشرے میں لا سکتی ہے۔[99]

سفارشات:

  • تعلیمی نصاب میں سیرت کے کردار ساز پہلوؤں کی شمولیت۔
  • حکومت اور پالیسی ساز ادارے ایک جدید عملی اور شمولیتی نظام تعلیم تشکیل دیںیونیورسٹیز اور وکیشنل اداروں کو صنعت کے ساتھ مربوط کیا جائے تاکہ طلبہ کو روزگار کے بہتر مواقع مل سکیں۔
  • سیرت نبویﷺ کی طرز پر اسکولوں میں ہفتہ وار تربیتی سیشنز شروع کریں۔
  • بین المذاہب رواداری ہم آہنگی کے موضوع کو سنجیدہ لیا جائے اور اس بات کا خاص خیال کیا جائے کہ ہمارے بچے کہیں اس  انسانی رواداری کے چکر میں لبرلزم اور لادینیت کی طرف نہ چلے جائیں۔
  • نصاب میں 20فیصد وقت اخلاقی تربیت اور قانونی آگاہی کے لیے مختص کریں۔
  • JJSA (Juvenile Justice System Act2018 )اور Zainab Alert کو سختی سے نافذ کریں؛ نیا نوجوان تربیت قانون بنائیں۔
  • ’’نوجوان معمار پروگرام‘‘ شروع کریں؛ بجٹ کا 10% تربیت پر لگائیں۔
  • مساجد کو کمیونٹی سینٹرز بنا ئیں جہاں نوجوانوں کی کاؤنسلنگ ہو جب کہ والدین کے لیے سیرت بیسڈ کیمپس لگائے جائیں ایک تحرک پیدا کیا جائے ۔
  • میڈیا مہم چلائیں: نوجوان قوم کا معمار ہیں۔
  • والدین اور اساتذہ کے لیے نبوی طریقہ تربیت کی ٹریننگ کا واضح اور مکمل پروگرام ہو۔

حرف آخر:

نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ ’’تم میں سے ہر ایک راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔‘‘[100]

یہ حدیث ذمہ داری، احتساب اور قیادت کی بنیاد ہے۔ اسے نصاب، مساجد اور سماجی سرگرمیوں کا محور بنانے سے نوجوان اقبال کے شاہین اور امت کو عروج دلا سکتے ہیں۔

نیت کی اہمیت: نبی مہربان ﷺ نے فرمایا: ’’انما الأعمال بالنیات‘‘یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پرہے۔[101]

 نیتاعمال کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔شفافیت اور مقاصد کو سیرت و کردار اور تربیت کا لازمی جز بناتا ہے یہ حدیث علومِ حدیث میںپہلی حدیث سکھائی جاتی ہے اور نیت کی اہمیت پر زور دیتی ہے۔

یہی وہ تیر بہدف ہے جو ہمارے قوانین ہمارے نصاب ہمارے معاشرتی اقدار میں روح پھونک دے گی اوریہ وہ روحانی قوت کا ماخذ ہے جو معاشرے کو پنپنے اور کامیابی دلانے کا ذریعہ بنے گی۔

  سیرت کو زندگی کا لازمی جزو بنانا ہی حقیقی ترقی کا ضامن ہے۔

یہ مقالہ سیرت نبوی کو کردار سازی کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔

سیرت کو عملی زندگی کا حصہ بنائیں تو نسل نو محفوظ، مضبوط اور کامیاب ہوگی۔

جوانوں کو مری آہ سحر دے

پھر ان شاہین بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میریہ ہی ہے

مرا نور بصیرت عام کر دے۔[102]


[1] سورۃ احزاب آیت نمبر 21

[2] 2 National youth policy GOP , UNFA2008  Pakistan (demographic dividend)

[3] 3 Article pattern of adolescent suicide in Pakistan (pmc.ncbi.n lm.nih.gov)

[4] سورۃ الاحزاب ، آیت نمبر

[5] https://www.who.int/  عالمی ادارہ صحت

[6] ’’عصر حاضر اور نوجوان‘‘ از مجتبیٰ  فاروق(شائع کردہ ترجمان القران : اپریل ۲۰۱۵)[

[7] سورۃ الکہف آیت ۱۳ ، ۱۴

[8] ترجمہ قرآن ما مختصر حواشی مولانا مودودی صفحہ545-547

[9] ’’عصر حاضر اور نوجوان‘‘ از مجتبیٰ  فاروق(شائع کردہ ترجمان القران : اپریل ۲۰۱۵)

[10] (PECA ACT 2016)

[11] PTA2020-2021 (https://moott.gov.pk)

[12] 2014 (https:// nacta.gov. p k)

[13] (Https:// www. nacta. gov. pk)

[14] Https:// pide.org.pk

[15] (.https gcwus edu.pk) 2018

[16] (Https:// narcon.gov.pk)

[17] (Https:// www. dawn.com(

[18] پرائم منسٹر ڈیجیٹل یوتھ ہبhttps://pmyp.gov.pk)/)

[19] نیشنل وکیشنل  اینڈ ٹیکنیکل  ٹریننگ کمیشن http://navttc.gov.pk) /

[20] سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ اسکیم https://cmlaptophed.punjab.gov.pk) /(

[21] ای ٹیکسی اسکیم e-taxi.punjab.gov.pk/، ہنر مند پنجاب hunarmandpunjab.pk/، کھیلتا پنجابkhelta.punjab.gov.pk/

[22] احساس نوجوان پروگرام  https://kpyouthaffairs.gov.pk/news/ehsaas-naujawan-programme

[23] ڈیجیٹل انٹرنشپ پروگرام https://www.kpitb.gov.pk/projects/kp-digital-internship-program

[24] احساس ہنر پروگرام https://kptevta.gov.pk/ehsas-hunar-programme/

[25] سٹی اینڈ گلڈز ( ڈیلی ٹائمز نیوز: Sindh, City & Guilds team up to provide jobs to skilled youth)

[26] نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی ۲۰۲۵  https://pid.gov.pk/site/press_detail/28224

[27] نیشنل رحمت اللعالمین و خاتم النبین اتھارٹی https://nrkna.gov.pk/

[28] https://PSLM-sdgs.data.gov.pk(Paksitan Social and Living standard Measuring survey(PSLM2024-2025

[29] https://www.dawnnews.tv/news/1261216

[30] daily Pakistan 1st January 2026 (https://daily pakistan.com.pk

[31] (Pakistan corruption rank by trending economics)

[32] Paradigm shift.com.pk/youth-pakistan

[33] https://fafen.or29jn2016

[34] https:// teveta. gop.pk,(

[35] (https:// humnews.pk Feb2026)

[36] (Commonwealth.org / UN categorized / Pakistan – youth – face. major problem)

[37] (Shahrukh jatoi case: https://www.dawn. com/news/1715658)

[38] (Mustafa Aamir case: https www.dawn.com/news/1715658)

[39] قانونی تعلق سے باہر بچون کے حقوق کا تعارف مسلم ذکریا

[40] محسن انسانیت نعیم صدیقی صفحہ 509ایڈیشن 55زیر اہتمام ادارہ مطالعہ و تحقیق پبلشر میاں سنز2021

[41] سورۃ  آل عمران ۱۶۴

[42] الرحیق المختوم مولانا صفی الرحمن مبارک پوری صفحہ 59 2 تا 262ناشر المکتبہ السلفیہ لاہور مطبع شاکرین لاہور کاپی رائٹ 4371 رجسٹریشن نمبر

[43] رسول خدا ﷺکا طریق تربیت۔ صفحہ نمبر ۲۵  مولانا سراج الدین ندوی اسلامک پبلیکشنز پرائیوٹ لمیٹیڈ لاہور منصورہ مطبع نوید حفیظ پریس اشاعت 2014 جولائی

[44] رسول خدا ﷺکا طریق تربیت۔ صفحہ نمبر ۲۵

[45] رسول خدا ﷺکا طریق تربیت۔ صفحہ نمبر 29

[46] سورۃ آ ل عمران آیت ۱۵۹

[47] رسول خدﷺا کا طریق  تربیت۔ الصحوتہ الاسلامیہ 

[48] صحیح مسلم حدیث نمبر 659 حکم صحیح

[49] رسول خداﷺ کا طریق تربیت مولانا سراج الدین ندوی صفحہ نمبر 30

[50] طبرانی مسند احمد رسول خدا کا طریقہ تربیت صفحہ 81

[51] سنن ابن ماجہ 3671

[52] سیرت النبی جلد اول علامہ شبلی نومانی صفحہ نمبر74 سے75  بک کارنر جہلم

[53] ’’عصر حاضر اور نوجوان‘‘ از مجتبیٰ  فاروق(شائع کردہ ترجمان القران : اپریل ۲۰۱۵)

[54] سورۃ لقمان آیت ۱۳ سے ۱۷

[55] سلسلہ صحیح : حکم صحیح ۲۶۹۰

[56] سورۃ الروم آیت۵۴

[57] محراب گل افغان کے افکار، ضرب کلیم ( شاعر: علامہ محمد اقبال)

[58] صحیح بخاری کتاب فضائل صحابہ حدیث نمبر 3757

[59] صحیح بخاری کتاب المغازی باب قتل ابی جہل حدیث نمبر 3961

[60] ’’عصر حاضر اور نوجوان‘‘ از مجتبیٰ  فاروق(شائع کردہ ترجمان القران : اپریل ۲۰۱۵)

[61] کتاب مشکوتہ المصابیح حدیث نمبر فائون74 حکم صحیح

[62] ترجمان القران، تزکیہ نفس قرآن کی روشنی میں (دسمبر ۲۰۱۴)

[63] سورۃ البقرہ آیت ۱۲۹

[64] صحیح بخاری660،صحیح مسلم 1031

[65] صحیح بخاری کتاب التہجد باب فضل قیام اللیل حدیث نمبر 1121

[66] ویب سائٹ جامعہ بنوریہ

[67] سورۃ الحجرات آیت ۶

[68] صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 24

[69] سنن ترمذي/كتاب الزهد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 2317

[70] تاریخ ابن عساکر (جلد 14، صفحہ 46)

[71] سورہ تکویر آیت نمبر 8 اور 9

[72] ( طبرانی المعجم الاوسط:287:3رقم317)

[73] (سورہ توبہ ایت 30 )

[74]  (سورہ نحل ایت 90)

[75] (النسائی احمد بن شعیب ابو عبدالرحمن السنن حلب المکتب المطبوعات الاسلامیہ 1406 ہجری ج 5 ص 268)

[76] بالِ جبریل (علامہ محمد اقبال)

[77] بالِ جبریل (علامہ محمد اقبال)

[78] بالِ جبریل (علامہ محمد اقبال)

[79] مقدمہ  ابن خلدوم ص 463 قاہرہ 2004 دارلکتب المصریہ قاہرہ

[80] سورۃ الاعراف آیت ۱۰

[81] سنن ابو داؤد٫کتاب البیو ع

[82] سورۃ الجمعہ  آیت ۱۰

[83] حدیث مسند احمد 2/334

[84] سورۃ بنی اسرائیل آیت نمبر 26

[85] سورۃ اعراف 31

[86] صحیح بخاری، 2586

[87] جامع ترمذی، حدیث نمبر 1919

[88] سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر 224

[89] صحیح بخاری، حدیث نمبر5304

[90] رسول خدا کا پیغام نوجوانوں کے نام محمد عبدالرحیم خرم عمری جامی ماہ نامہ صراط مستقیم بر منگھم (برطانیہ)2011

[91] بالِ جبریل (علامہ محمد اقبال)

[92] تعلیماتِ از مولانا مودودی اسلامک پبلیکشنز (پرائیوٹ لمیٹیڈ لاہور 1963)

[93] ضربِ کلیم ( علامہ محمد اقبال)

[94] نسائی /3140

[95] Cook Classical foundations of Islamic educational thought

[96] سورۃ آل عمران ۱۳۴

[97] شمائل ترمذی حدیث 343

[98] Your commonwealth.org / UN categorised / Pakistan – youth –major problem

[99] بنو قابل  پاکستان: banoqabil.org

[100] ](صحیح بخاری: کتاب الجمعہ، باب الجمعہ فی القری والمدن، حدیث نمبر ۸۹۳ (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت)۔

[101] (صحيح مسلم/كتاب الإمارة/حدیث: 4927])

[102] بالِ جبریل ( علامہ محمد اقبال)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Recent Updates

Post Image

ول فورم (WIL Forum) کی ایگزیکٹیو ممبر ایڈووکیٹ نسیم بانو نے قومی سطح پر ہونے والے سیرت نبویﷺ کانفرنس میں صوبہ سندھ سے مقالہ نگاری ..Read More

Post Image
WIL FORUM Chairperson ELection 2026

مئی 21/5/2026 سٹی کورٹ کراچی لیڈیز بار روم میں اسلامک لائرز کی چیئرپرسن کے انتخاب کے لئے ول فورم کی ممبر حق رائے دہی استعمال ..Read More

Post Image
Recreational Activity of WIL Forum

ویمن اسلامک لائرز فورم اپنے تمام افراد کار کے ساتھ پیشہ ورانہ بہتر تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور میں بہتری کے لئے سالانہ تفریحی ..Read More

Post Image
وویمن اسلامک لائرز فورم کے زیر اہتمام سالانہ کنوینش 2025 بعنوان “سالمیت پاکستان اور آئینی ترامیم” (چھبیسویں ترمیم کے تناظر میں )منقعد کیا گیا

وویمن اسلامک لائرز فورم کے زیر اہتمام سالانہ کنوینش 2025 بعنوان “سالمیت پاکستان اور آئینی ترامیم” (چھبیسویں ترمیم کے تناظر میں )منقعد کیا گیا جسمیں ..Read More

Post Image
Lost dream under emberalla of green flag

_عنوان : سبز پرچم کے سائے میں کھویا ہوا خواب_ تحریر: حافظہ طوبیٰ ثانیریسرچ ممبر وویمن اسلامک لائیر فورم 14 اگست کا سورج ہر سال ..Read More

Post Image
Illusion of independence

Hamna Ovais Research Team Member Research Department of WIL Forum 14th August marks Pakistan’s historic freedom from British colonial rule in 1947. This day is ..Read More

Post Image
TARBIYATI NASHIST

تمنا درد دل کی ہو، تو کر خدمت فقیروں کی نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کے خزینوں میں ~

Post Image
ELECTION’S 2023-2024

WIL FORUM SUPPORTING CANDIDATE FOR VICE PRESIDENT KBA 2023-2024 ADV. SYED SHAHID ALI MRS SHAHID ALI ADVOCATE SINDH HIGH COURT IS WELLKNOWN FOR HIS LOYALTY, ..Read More

Post Image
WIL Forum annual report 2022

Women Islamic Lawyers’ ForumJustice Through Integration of Qur’an.A tale of Endeavour in providing the justice to the deprived litigantsFrom July 2021 till June2022 ➢ WIL Forum ..Read More

Post Image
Discussion forum

Wil fourm is going to held discussion fourm on 3 sep 2022 at high court library

Post Image
PECA Ordinance 2016(Amendment 22) Article

پیکاترمیمی آرڈنینس اور غیر موثر ہتک عزت پاکستانی قوانین ( عدلیہ کی جانب سے پیکا ترمیمی آرڈنینس کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کی روشنی ..Read More

Post Image
upcoming event

welcome party in honour of newly elected ladies member of malir bar